اسلامیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات اور جامعہ عباسیہ سے جڑے سوالات
مطالبہ کنندہ: ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی ۔ سابق طالب علم لاء ڈیپارٹمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (1925–2025) کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اس عظیم جامعہ کے ایک سابق طالب علم (Alumni) کی حیثیت سے چند سوالات، معروضات اور مطالبات پنجاب کے حکمرانوں کے نام پیش ہیں۔
”احساسِ محرومی“ کسی ایک دن میں جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ مسلسل استحصال اور پسماندگی کے طویل تسلسل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ میں اس جامعہ کا سن 1996ء میں طالب علم رہا ہوں اور Alumni ہونے کے تمام حقوق رکھتا ہوں۔ لہٰذا ایک “مدعی” کی حیثیت سے پنجاب کے حکمرانوں کے سامنے چار بنیادی سوالات رکھنا چاہتا ہوں۔
سن 1970ء میں جب سابق ریاست بہاولپور کے تمام محکموں پر تختِ لاہور کا مکمل قبضہ ہوا تو “جامعہ عباسیہ” بھی اس عمل کی زد سے نہ بچ سکی۔ اس کی شناخت ختم کرنے کے لیے سن 1975ء میں جامعہ عباسیہ کو جنرل یونیورسٹی کی کیٹیگری میں ڈال کر “جامعہ اسلامیہ” بنا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب حکومت اس قدر معاشی طور پر بدحال تھی کہ “جامعہ عباسیہ” کے علاوہ ایک الگ “اسلامیہ یونیورسٹی” قائم نہیں کر سکتی تھی؟
یاد رہے کہ سن 1924ء میں نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی پنجم نے اپنی تاج پوشی اور تخت نشینی کے دن ہی عوام کو علم و کتاب کا تحفہ دیتے ہوئے صادق ریڈنگ لائبریری (موجودہ سنٹرل لائبریری) قائم کی۔ آج، 101 سال بعد، اسی عظیم ورثے کے سرسبز پلاٹوں میں شہر کے گٹروں کا بدبودار اور جراثیم آلود پانی بھرا ہوا کھڑا ہے۔ یہ ہے ہمارے تاریخی ورثے کی قدر دانی۔
سن 1925ء میں نواب محمد بہاول خان پنجم کے قائم کردہ تعلیمی ادارے کو ترقی دے کر ایک جامعہ کی شکل دی گئی جس کا نام “جامعہ عباسیہ” رکھا گیا۔ اس جامعہ میں علومِ اسلامیہ کے ساتھ ساتھ عصرِ جدید کے مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ یہ ادارہ اُس وقت متحدہ ہندوستان میں وہی مقام رکھتا تھا جو مسلم دنیا میں جامعہ الازہر مصر کو حاصل تھا۔
جامعہ عباسیہ میں نہ کوئی داخلہ فیس تھی، نہ ٹیوشن فیس۔ تعلیم مکمل طور پر مفت تھی۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹل میں مفت رہائش، جبکہ معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے مفت میس یعنی کھانے کی سہولت موجود تھی۔ ذہین طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور مستحق طلبہ کے لیے خصوصی مالی وظائف بھی دیے جاتے تھے۔
مفت داخلہ، مفت تعلیم اور مفت قیام و طعام جیسی سہولیات کے باعث پنجاب، سندھ، بلوچستان، سابق صوبہ سرحد اور متحدہ ہندوستان کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں طلبہ اس جامعہ میں داخلہ لیتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب کئی علاقوں میں سردار اور وڈیرے سکول تک قائم نہیں ہونے دیتے تھے، کجا کہ یونیورسٹی۔ اسی دور میں صادق ڈین اسکول اور صادق ایجرٹن کالج جیسے ادارے قائم کیے گئے، جن کی تقلید کرتے ہوئے اس علم دوست حکمران نے جامعہ عباسیہ کا عظیم تحفہ عوام کو دیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ جامعہ عباسیہ کے اثاثے قانونی اور آئینی طور پر جامعہ اسلامیہ کو منتقل نہیں کیے گئے۔ سابق ریاست بہاولپور کے اثاثے پاکستان نیشنل اسمبلی کے “قیامِ مغربی پاکستان ایکٹ 1955ء (ون یونٹ ایکٹ)” کے تحت ون یونٹ کے قیام تک ریاست کے پاس ہی رہے۔
بطور سابق طالب علم (Alumni) اور ایک ”مدعی“ کی حیثیت سے میرے چار سوالات درج ذیل ہیں:
سن 1925ء میں خطہ بہاولپور کی آبادی تقریباً 8 لاکھ 83 ہزار تھی، جبکہ سن 1970ء میں یہ 25 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ آبادی کے تیزی سے بڑھنے کے باوجود، قانونی جواز موجود ہونے کے باوجود نئی یونیورسٹی قائم کرنے کے بجائے جامعہ عباسیہ کا نام بدل دیا گیا۔ اگر 55 سال پہلے ایک الگ یونیورسٹی قائم کر دی جاتی تو تعلیمی ضروریات پوری ہوتیں اور شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوتا۔ ایسا کیوں نہ کیا گیا؟
جامعہ عباسیہ سن 1925ء میں ”رائل چارٹر “کے تحت قائم کی گئی تھی۔ سن 1970ء میں اس کی حیثیت تبدیل کرتے وقت کیا صوبائی اسمبلی کے ذریعے کسی نئے صوبائی یونیورسٹی چارٹر کی منظوری دی گئی یا پرانے رائل چارٹر کی توثیق کی گئی؟ اس تبدیلی کا قانونی طریقۂ کار کیا تھا؟
سابق ریاست بہاولپور کے اثاثے مختلف معاہدوں کے ذریعے حکومتِ پاکستان کو منتقل ہوئے۔ سن 1970ء میں حکومتِ پاکستان نے کن قانونی تقاضوں کے تحت جامعہ عباسیہ کے اثاثے حکومتِ پنجاب یا اسلامیہ یونیورسٹی کو منتقل کیے؟ یا کوئی شارٹ کٹ اختیار کیا گیا؟
کیا پنجاب حکومت کو صدیوں پرانے اداروں اور ان کے اثاثوں کے نام تبدیل کرنے کا اختیار حاصل تھا؟ اگر تھا تو کن قوانین کے تحت، اور اس کے لیے کون سا باقاعدہ طریقۂ کار اپنایا گیا؟