جنگ کا دوسرا ہفتہ: ایران کا 220 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
یوتھ ویژں نیوز : (محمد عباس سے) امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں شدت، تہران اور اصفہان پر بمباری، ایران کا 220 امریکی فوجیوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کا دعویٰ۔
تہران: ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوسرے ہفتے میں شدت آگئی ہے، تہران، اصفہان اور دیگر شہروں پر تازہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچرز اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے 80 لڑاکا طیارے تباہ کر دیے ہیں۔
رہائشی علاقوں اور تنصیبات کو نقصان
ایرانی ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں ہزاروں عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بمباری میں 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس، 1041 کمرشل یونٹس، 14 طبی مراکز، 65 سکول اور ہلال احمر کے 13 مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے جوابی حملے
ایران کی جانب سے بھی امریکا اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں حملوں کے دوران 220 سے زائد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ایرانی حکام کے مطابق یو ایس ففتھ فلیٹ کے 21 فوجی مارے گئے جبکہ الظفرہ ایئر بیس پر حملے میں تقریباً 200 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تل ابیب میں سٹریٹجک اہداف پر میزائل حملوں سے عمارتیں لرز گئیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق صوبہ ہرمزگان میں ایک اسرائیلی ڈرون بھی مار گرایا گیا ہے۔
ایران کا امریکا کو انتباہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کیلئے تیار ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کی بنیادی وجہ اسرائیل کی پالیسیاں ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کو اس جنگ میں دھکیل دیا ہے۔