ایران کی نئی دھمکی، عالمی ٹیک مراکز نشانے پر
ایران نے خبردار کیا ہے کہ پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو 48 گھنٹوں میں عالمی ٹیکنالوجی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا، خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔
یوتھ ویژن نیوز : (ایرانی میڈیا) ایران نے خبردار کیا ہے کہ پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو 48 گھنٹوں میں عالمی ٹیکنالوجی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا، خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔
تہران — ایران نے امریکا کی ممکنہ کارروائی کے ردعمل میں عالمی سطح پر سخت دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو 48 گھنٹوں کے اندر خطے سے باہر بڑے ٹیکنالوجی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
پاسداران انقلاب کا انتباہ
ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس سروس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ردعمل
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران نے اس بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی قیادت کا مؤقف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے میں توانائی اور ایندھن کے مراکز کو تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو سکتا ہے۔
خطے سے باہر اہداف کی نشاندہی
ایرانی حکام کے مطابق اب ایران کی نظر خطے سے باہر موجود ان ٹیکنالوجی اور سیاسی مراکز پر ہے جو اس کے مخالفین سے منسلک ہیں۔ اس بیان نے عالمی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی تشویش
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں فوری مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور معاشی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔