دباؤ میں نہیں آئیں گے، جواب سخت ہوگا: ٹرمپ کی پریس کانفرنس پر ایران کا دوٹوک ردعمل
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) تہران نے امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ پریس کانفرنس اور ایران سے متعلق سخت بیانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی دباؤ، دھمکی یا ڈیڈ لائن کے آگے نہیں جھکے گا۔ ایرانی مشترکہ فوجی کمان کے جاری کردہ تازہ بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل اسٹریٹجک ناکامیوں اور سفارتی سبکی کا سامنا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جارحانہ زبان انہی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی قیادت کی بڑھتی ہوئی دھمکی آمیز بیان بازی دراصل اس کی کمزور پوزیشن کا اعتراف ہے اور تہران اپنی قومی سلامتی، علاقائی مفادات اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران کو ایک سخت ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران نے مقررہ وقت تک آبنائے ہرمز کھولنے اور مجوزہ معاہدے پر پیش رفت نہ کی تو ایران کے پلوں، پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں : ایران حملہ: متحدہ عرب امارات کے گیس پلانٹ میں آگ لگ گئی
ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کی کوشش کی تو اس کا ” فیصلہ کن، سخت اور خطے بھر میں محسوس ہونے والا جواب“دیا جائے گا۔
تہران نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ ممکنہ کشیدگی یا کسی بھی بڑے تصادم کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی جنگی دباؤ کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور کسی بھی عسکری تصادم کے اثرات فوری طور پر عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔