ایران جنگ کا 23 واں دن، اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی

iran-israel-war-day23-missile-attacks

ایران اسرائیل جنگ کے 23ویں روز دیمونا اور عراد پر میزائل حملوں میں 100 افراد زخمی، ٹرمپ کی آبنائے ہرمز پر نئی دھمکی، خطہ کشیدگی کا شکار۔

یوتھ ویژن نیوز : (عیشال فاطمہ سے) ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 23ویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

دیمونا اور عراد میں میزائل حملے

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے اہم شہروں دیمونا اور عراد پر میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حملوں کے بعد ہنگامی اقدامات کیے گئے اور ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا گیا۔

اسرائیل کے تہران پر حملے

دوسری جانب اسرائیل نے تہران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جہاں مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث نقصان کا خدشہ ہے۔

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں مکمل طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کرے گا۔

ایران کا سخت ردعمل اور انتباہ

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے منسلک تمام توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ اس بیان نے خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

ڈرون اور طیارہ مار گرانے کے دعوے

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تہران کی فضاؤں میں ایک امریکی اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا، جبکہ پاسداران انقلاب نے ایک اسرائیلی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

نطنز جوہری تنصیبات پر حملہ

ایران کے جوہری ادارے کے مطابق نطنز میں جوہری تنصیبات کو امریکا اور اسرائیل نے نشانہ بنایا، تاہم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ کسی قسم کی تابکاری خارج ہونے کے شواہد نہیں ملے، جس سے ایک بڑے خطرے کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا ہے۔

جانی نقصان اور انسانی بحران

ایرانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ متعدد ہسپتالوں کو خالی کرانا پڑا، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی

خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے درجنوں ایرانی ڈرونز اور میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین نے بھی سینکڑوں حملے ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔

قطر میں ہیلی کاپٹر حادثہ

قطر میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس واقعے نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کو مزید واضح کر دیا ہے۔

اسرائیل میں ہنگامی اقدامات

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اسرائیلی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق جنگ کے پھیلاؤ اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں