غربت سے کنگ ایڈورڈ تک: محنت، قربانی اور ایک خواب کی تکمیل

غربت سے کنگ ایڈورڈ تک | ایک غریب گھر کے بیٹے کی متاثر کن کامیابی

خصؤصی کالم : سیف الرحمن

ایک غریب گھرانے کے بیٹے کی جدوجہد، والدین کی قربانیاں اور محنت کی وہ داستان جو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی تک جا پہنچی۔

ہمارے معاشرے میں بے شمار کہانیاں ایسی ہیں جو اخبارات کی سرخیوں تک نہیں پہنچ پاتیں، مگر وہ قوم کی اصل طاقت ہوتی ہیں۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی غریب گھرانے کے بیٹے کی ہے جس نے محدود وسائل، سخت حالات اور معاشی تنگی کے باوجود محنت اور لگن سے ایم بی بی ایس تک کا سفر طے کیا اور اپنے والدین کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

جب اس نوجوان نے میڈیکل کے شعبے کو اپنا کیریئر بنانے کا ارادہ کیا تو سب سے بڑی رکاوٹ وسائل کی کمی تھی۔ ہمارے ملک میں میڈیکل کی تعلیم آج بھی متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک دشوار راستہ ہے، جہاں فیسیں، کتابیں اور دیگر اخراجات خوابوں کو توڑ دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مگر اصل فرق وہاں پڑتا ہے جہاں ہمت ہارنے کے بجائے جدوجہد کو اپنا شعار بنایا جائے۔

اس طالب علم کے والد ایک سیکیورٹی گارڈ ہیں جو اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ کپڑے سی کر گھر کا نظام چلاتے رہے، جبکہ والدہ ایک سادہ گھریلو خاتون ہونے کے باوجود اپنے بیٹے کے حوصلے کی سب سے بڑی طاقت بنیں۔ یہ وہ والدین ہیں جنہوں نے اپنی آسائشوں کو قربان کر کے اپنی اولاد کے مستقبل کو ترجیح دی، اور یہی قربانیاں قوموں کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔

ابوبکر نے دن رات محنت کی، اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور ثابت کیا کہ کامیابی وسائل کی محتاج نہیں بلکہ عزم کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اس کی محنت رنگ لائی اور اسے پاکستان کے ممتاز طبی ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سمیت کئی معروف میڈیکل کالجوں میں داخلہ ملا۔ یہ کامیابی محض ایک فرد کی نہیں بلکہ اس نظام کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ اگر سہولتیں میسر ہوں تو ہمارے نوجوان کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ انفرادی قربانیوں، والدین کی دعاؤں اور نوجوانوں کی محنت سے بنتی ہیں۔ ایسے نوجوان ہمارے لیے امید کی کرن ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو غربت بھی منزل کا راستہ نہیں روک سکتی۔

اللہ تعالیٰ ہر والدین کو ایسی نیک اولاد عطا فرمائے جو ان کے خوابوں کو تعبیر دے، اور ہر ایسے نوجوان کو حوصلہ دے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے۔ یہی نوجوان دراصل ملک و قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں