لٹل ماسٹر کا شہرِ یاد: بہاولپور
آج پاکستانی کرکٹ کے عظیم سپوت، حنیف محمد مرحوم کا 91واں یومِ پیدائش ہے۔ ”لٹل ماسٹر“ کے نام سے مشہور حنیف محمد اولین پاکستانی کرکٹ ٹیم کے رکن، سابق کپتان، شاندار تکنیک کے حامل بلے باز، دونوں ہاتھوں سے گیند بازی کرنے والے آل راؤنڈر اور وکٹ کیپر بھی رہے۔
وہ 21 دسمبر 1934 کو بھارتی ریاست جوناگڑھ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔
حنیف محمد کے بہاولپور سے تعلقات نہایت مضبوط اور گہرے رہے۔ ان کی ابتدائی کرکٹ کا آغاز ریاست بہاولپور ہی میں ہوا۔ انہوں نے 17 سال سے کم عمر میں اپنا دوسرا فرسٹ کلاس میچ بہاولپور اور کراچی کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے میرلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے خلاف ڈرنگ اسٹیڈیم بہاولپور میں کھیلا۔ اس سہ روزہ میچ کی پہلی اننگ میں انہوں نے 71 رنز کی عمدہ اننگ کھیلی، تاہم حریف ٹیم فالو آن کا شکار ہو گئی جس کے باعث انہیں دوسری اننگ میں بیٹنگ کا موقع نہ مل سکا۔
1953-54 میں جب پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈومیسٹک کرکٹ کا باقاعدہ آغاز ہوا اور قائداعظم ٹرافی متعارف کرائی گئی تو حنیف محمد نے اپنے بڑے بھائی اور سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد کے ہمراہ بہاولپور کی نمائندگی کی۔
پہلا میچ سندھ کے خلاف ڈرنگ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں سندھ کی قیادت معروف سیاست دان پیر پگارا کر رہے تھے۔ پیر پگارا پہلی اننگ میں ایک رن بنا کر امیر الٰہی کی گیند پر بولڈ ہوئے جبکہ دوسری اننگ میں 15 رنز پر ذوالفقار احمد نے انہیں آؤٹ کیا۔ اس میچ میں حنیف محمد نے پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیٹ کیری کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 147 رنز بنائے اور دوسری اننگ میں 21 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
پہلی قائداعظم ٹرافی بہاولپور نے جیتی۔ حنیف محمد نے تین میچز کی پانچ اننگز میں دو سنچریوں کی مدد سے 339 رنز بنائے اور ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر قرار پائے۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ بہاولپور کی جانب سے کرکٹ نہیں کھیلی، لیکن جب بھی اپنی سابق ٹیم کے خلاف میدان میں اترے تو دل کھول کر رنز بنائے۔ صرف چار میچز کی تین اننگز میں انہوں نے 804 رنز اسکور کیے۔
1958-59 کی قائداعظم ٹرافی کے سیمی فائنل میں بہاولپور کے خلاف کھیلتے ہوئے حنیف محمد نے کیریئر کی تاریخی اور یادگار اننگ 499 رنز کی کھیلی، جس کے ذریعے انہوں نے سر ڈان بریڈمین کا 30 سال پرانا 452 رنز کا فرسٹ کلاس ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ اننگ طویل عرصے تک دنیا کی سب سے بڑی انفرادی فرسٹ کلاس اننگ رہی۔ اسی شاندار کارکردگی پر حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ بعد ازاں 1994 میں برائن لارا نے 501 رنز بنا کر یہ ریکارڈ توڑا۔
بہاولپور کے ڈرنگ اسٹیڈیم میں حنیف محمد نے مجموعی طور پر پانچ میچز کی چھ اننگز میں 686 رنز بنائے، جن میں چار سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔ اپنی پہلی بین الاقوامی سنچری بھی انہوں نے بھارت کے خلاف بہاولپور ہی میں بنائی، جہاں انہوں نے 468 منٹ تک بیٹنگ کی۔ یہ کسی بھی پاکستانی کرکٹر کی پہلی ہوم ٹیسٹ سنچری تھی، جس کا اعزاز نوابوں کے شہر بہاولپور کو حاصل ہوا۔ اس تاریخی کارنامے پر انہیں دو ہزار روپے انعام بھی دیا گیا۔
حنیف محمد کی بہاولپور سے بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ بہاولپور کے ایک سینئر شہری اور کرکٹ منتظم کے مطابق وہ نفاست پسند، اعلیٰ اخلاق اور غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔ اپنی ذاتی اشیاء کے معاملے میں بھی وہ حد درجہ ذمہ دار ہوا کرتے تھے۔ نواب سر صادق محمد خان عباسی بھی ان کی بیٹنگ کے مداح تھے۔
ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ معروف ادیب سعادت حسن منٹو 1955 میں لاہور میں ہونے والا پاکستان اور بھارت کا تیسرا ٹیسٹ میچ حنیف محمد کی بیٹنگ کی وجہ سے دیکھنا چاہتے تھے، لیکن اس سے قبل 18 جنوری 1955 کو بہاولپور میں جاری ٹیسٹ میچ کے دوران منٹو کے عزیز بھانجے حامد جلال کمنٹری کر رہے تھے کہ انہیں اچانک ماموں کے انتقال کی خبر ملی۔
جب وہ کمنٹری باکس میں واپس آئے اور ساتھیوں نے خیریت دریافت کی تو انہوں نے کاغذ پر لکھا:
“امپائر نے سعادت حسن منٹو کو آخر آؤٹ دے ہی دیا۔ آج صبح ان کا انتقال ہو گیا۔”
یہ سطور نہ صرف ایک عظیم ادیب کی جدائی کی خبر تھیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ حنیف محمد کی کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ ادب، تاریخ اور تہذیب سے جڑی ہوئی ایک زندہ داستان تھی۔