فیصل آباد میں ڈاکٹروں کا کمال، 3 سالہ بچے کے گلے سے تالا نکال کر جان بچا لی
فیصل آباد میں نجی چلڈرن اسپتال میں کامیاب آپریشن کے بعد 3 سالہ بچے کے گلے میں پھنسا تالا نکال لیا گیا، بروقت علاج سے جان بچ گئی۔
یوتھ ویژن نیوز : (قاری عاشق حُسین سے)فیصل آباد میں نجی چلڈرن اسپتال میں کامیاب آپریشن کے بعد 3 سالہ بچے کے گلے میں پھنسا تالا نکال لیا گیا، بروقت علاج سے جان بچ گئی۔
فیصل آباد کے ایک نجی چلڈرن اسپتال میں ڈاکٹروں نے بروقت اور مہارت سے ایک انتہائی حساس آپریشن انجام دے کر تین سالہ بچے کی جان بچا لی، جس کے گلے میں چار روز سے تالا پھنسا ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ننھا بچہ کھیل کے دوران غیر محسوس طریقے سے تالا نگل گیا تھا، جس کے بعد اس کی حالت آہستہ آہستہ بگڑنے لگی۔ اہل خانہ کے مطابق ابتدائی دنوں میں بچے کو معمولی تکلیف محسوس ہوئی، تاہم بعد ازاں سانس لینے میں دشواری پیدا ہونے پر فوری طور پر اسے چلڈرن اسپتال منتقل کیا گیا۔
چلڈرن اسپتال کی ایچ او ڈی ڈاکٹر نگینہ شہزادی نے بتایا کہ بچے کو اسپتال لائے جانے کے وقت اس کی حالت تشویشناک تھی اور سانس رکنے کی شکایت واضح طور پر موجود تھی۔ طبی معائنے اور جدید تشخیصی آلات کے ذریعے معلوم ہوا کہ تالا بچے کے گلے میں خطرناک حد تک پھنسا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر نگینہ کے مطابق اگر بروقت آپریشن نہ کیا جاتا تو بچے کو جان لیوا پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ڈاکٹرز کی خصوصی ٹیم نے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کا فیصلہ کیا، جو نہایت احتیاط، مہارت اور جدید طبی طریقہ کار کے تحت کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ کامیاب آپریشن کے بعد بچے کے گلے سے تالا بحفاظت نکال لیا گیا، جس کے بعد اس کی سانس بحال ہو گئی اور طبیعت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن کے بعد بچے کو کچھ وقت طبی نگرانی میں رکھا گیا، تاہم اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
فیصل آباد چلڈرن اسپتال میں بچے کے گلے سے تالا نکالنے کا کامیاب آپریشن
ماہرین صحت کے مطابق بچوں میں اس طرح کے واقعات معمولی غفلت کے باعث پیش آتے ہیں، تاہم یہ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نگینہ شہزادی نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ کم عمر بچوں کو کھیل کے دوران چھوٹی اور نوکیلی اشیاء سے دور رکھیں، کیونکہ بچے تجسس میں ایسی چیزیں منہ میں ڈال لیتے ہیں جو جان لیوا بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی معمولی سی توجہ بچوں کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف طبی عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ بچوں کی حفاظت میں ذرا سی کوتاہی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ فیصل آباد کے شہریوں نے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثالی طبی کامیابی قرار دیا ہے۔
بچے کی زندگی کو خطرہ، والدین کے لیے حفاظتی اقدامات کی اہمیت
طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے حادثاتی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ گھریلو سطح پر حفاظتی اقدامات کی کمی ہے۔ اس واقعے کے بعد والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نگرانی کے حوالے سے مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی سہولت سے رجوع کریں۔