سیاسی بحران میں اہم پیش رفت! محمود اچکزئی نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کردی
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) اسلام آباد- قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جمہوری پاکستان کے لیے ہر طرح کی بات چیت پر تیار ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کے بعد اس کی تفصیلات عام نہ کرنے کے لیے تحریری ضمانت بھی دی جاسکتی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کے ہمراہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر اپوزیشن رہنما موجود تھے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ اور مستقبل کے مذاکراتی لائحہ عمل پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
عمران خان سے ملاقات مذاکرات کی اہم شرط
محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ وہ حکومت سے ملاقات یا مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق وہ مختلف مقامات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم وزیراعظم ہاؤس اور اسپیکر آفس میں ملاقات نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو پہلے عمران خان سے ملنے دیا جائے تاکہ وہ ان کی رائے اور ہدایات سے آگاہ ہوسکیں۔ اچکزئی نے یقین دہانی کرائی کہ وفد ملاقات کے بعد باہر آکر گفتگو کی تفصیلات افشا نہ کرنے کا تحریری وعدہ بھی کرسکتا ہے۔
محمود اچکزئی اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا مشکل ہوگا۔ ان کے حالیہ بیان میں بھی یہی مؤقف نمایاں رہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے باہمی اعتماد اور متعلقہ قیادت سے مشاورت ضروری ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف سخت ردعمل
محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی معاملات کو طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے اور جمہوری طریقہ کار سے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی سنگین مسائل موجود ہیں اور حکومت کو تمام صوبوں میں سیکیورٹی کے معاملات پر یکساں توجہ دینی چاہیے۔ ان کے بعض دعوے سیاسی مؤقف کا حصہ ہیں، جنہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔
اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے کارکنوں کو ہدایت دیں گی کہ وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپنے اپنے علاقوں میں پُرامن احتجاج کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتی ہے۔
پورے ملک میں پُرامن احتجاج کا اعلان
محمود اچکزئی کے مطابق اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاسی و تنظیمی حیثیت کے مطابق مختلف اضلاع میں احتجاجی سرگرمیاں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ اختلافات کے باوجود احتجاج پُرامن ہونا چاہیے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مکالمے کے امکانات ختم نہیں ہونے چاہییں۔
انہوں نے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے اور عوام کے حقِ رائے دہی کا احترام کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی و آئینی مشکلات کا مستقل حل ایک مضبوط پارلیمان، جمہوری اصولوں کی پاسداری اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات میں ہے۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے طے ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے 11 اکتوبر کو سیاہ دن قرار دے دیا
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے 11 اکتوبر کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا۔ انہوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام ان اقدامات کو قبول نہیں کرتے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر جمہوری اقدامات کے خلاف ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھائے گی اور اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات واپس لیے جائیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں میں سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی مضبوطی کے لیے صوبوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبائی معاملات کو سیاسی مشاورت اور آئینی عمل کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
علامہ راجا ناصر عباس کا مؤقف
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے بھی پریس کانفرنس کے دوران آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف ایسی حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے جس میں عام شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
راجا ناصر عباس نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں بھی سیکیورٹی حالات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور آئینی تنازعات کا حل بات چیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے آئین کو متنازع بنانے کے بجائے اس پر اتفاقِ رائے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اس مؤقف کا اظہار کیا کہ صوبوں کے حقوق، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری عمل کا تحفظ سیاسی مکالمے کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ جاری رکھنے کا اعلان
اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک طرف خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کررہے۔
محمود اچکزئی کی پیشکش میں عمران خان سے ملاقات کی شرط کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مخصوص شرط پر قبولیت یا ملاقات کی اجازت سے متعلق کوئی نیا باضابطہ اعلان دستیاب رپورٹوں میں سامنے نہیں آیا۔
مجموعی طور پر اپوزیشن کی تازہ پریس کانفرنس میں مذاکرات کی پیشکش، عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ اور ایمرجنسی و گورنر راج کے خلاف پُرامن احتجاج کا اعلان نمایاں رہا۔ آئندہ سیاسی پیش رفت کا انحصار حکومت کے ردعمل، عمران خان سے ملاقات کے معاملے اور فریقین کے درمیان مذاکراتی رابطوں پر ہوگا۔