اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کا سہرا وزیراعظم کے سرہے، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ
یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے)- وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کو وزیراعظم شہباز شریف کی حمایت اور رہنمائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو مضبوط بنانے اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اسی روز وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے اسے دانش آئی ٹی پارک (Daanish IT Park) کا نام دیا۔
اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی مسلسل رہنمائی اور حمایت کی بدولت یہ منصوبہ تقریباً ڈھائی سال میں موجودہ مرحلے تک پہنچا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کا وژن یہ تھا کہ آئی ٹی پارک محض دفاتر کرائے پر دینے والی عمارت نہ ہو بلکہ ایک مکمل ٹیکنالوجی ایکو سسٹم بنے، جہاں آئی ٹی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز، محققین اور کاروباری افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔
دانش آئی ٹی پارک کیوں اہم ہے؟
وزیراعظم شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ دانش آئی ٹی پارک پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ سہولت انکیوبیشن سینٹرز، جدت کے مراکز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے نمائندوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق منصوبہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ صنعت، زراعت، کان کنی اور دیگر شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پارک کے انتظام اور آپریشن کے لیے شفاف بولی کا عمل شروع کیا جائے، جس میں پاکستان اور بیرون ملک کی معروف آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کو مدعو کیا جائے۔
جدید ڈیٹا سینٹر، روبوٹکس لیبز اور اسٹارٹ اپ ہب
شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق اسلام آباد آئی ٹی پارک میں جدید ڈیٹا سینٹر، خصوصی ٹیکنالوجی زون، روبوٹکس اور تحقیقی لیبارٹریاں، اسٹارٹ اپ ہب اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے والا مرکز شامل ہے۔
ان سہولتوں کا مقصد نئی ٹیکنالوجیز، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی معاونت کرنا اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے ٹیکنالوجی حلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس ماحول میں کمپنیوں اور نئے کاروباروں کو اپنی مصنوعات تیار کرنے، تحقیقی صلاحیت بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کے لیے 25 ارب ڈالر کا ہدف
اسلام آباد آئی ٹی پارک حکومت کے اس ہدف سے بھی منسلک ہے جس کے تحت 2030 تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانا مقصود ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ترقی، نئی مصنوعات کی تیاری، بین الاقوامی کاروباری روابط اور مقامی ماہرین کی صلاحیتوں میں اضافے کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی افتتاحی تقریب میں ٹیکنالوجی پارک کو محض عمارت کے بجائے جدت، تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے جامع نظام قرار دیا۔ ان کے مطابق یہاں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین، کاروباری افراد اور سیکھنے کے خواہش مند نوجوانوں کو ایک ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔
ارفع کریم ٹاور سے ای سہولت مراکز تک
اپنے خطاب میں شزہ فاطمہ خواجہ نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے لاہور میں ارفع کریم ٹاور، انکیوبیشن سینٹرز، آئی ٹی یونیورسٹی، مشترکہ دفتری مقامات، ای سہولت مراکز اور ای لائبریریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے اور عوامی ڈیجیٹل خدمات کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے 65 اضلاع میں چھوٹے ٹیکنالوجی مراکز قائم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ملک بھر میں 135 مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جن میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ ان مراکز میں نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
طالبات کی ڈیجیٹل مہارتوں پر بھی توجہ
شزہ فاطمہ خواجہ نے تقریب میں شریک اسلام آباد کے وفاقی اسکولوں کی طالبات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ساتویں سے گیارہویں جماعت تک کی طالبات نے ہواوے کے 16 تربیتی سرٹیفیکیشنز مکمل کیے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں، بالخصوص طالبات، کو ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دینا ایک جامع ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
انتظامی نظام اور آئندہ کا لائحۂ عمل
وزیراعظم نے کہا کہ دانش آئی ٹی پارک کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے شفاف طریقے سے چلایا جائے اور صنعت و ٹیکنالوجی کے ماہرین کو اس کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے منصوبے کی تکمیل میں کام کرنے والی وزارتِ آئی ٹی، متعلقہ حکام اور جنوبی کوریا کی معاونت کو بھی سراہا۔
مجموعی طور پر دانش آئی ٹی پارک کا افتتاح پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، تحقیق، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اس منصوبے کے حقیقی اثرات کا اندازہ اس وقت ہوگا جب یہ مکمل طور پر فعال ہوکر کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، محققین اور نوجوانوں کے لیے عملی مواقع پیدا کرے گا۔