وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خود کشی کا نوٹس لے لیا

لائبہ اعجاز کیس میں وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس سے متعلق خبر

یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے)– لائبہ اعجاز کیس: وزیراعظم شہباز شریف کا نوٹس، مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کرنے والی لائبہ اعجاز کی موت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کے لیے حراست میں لینے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم سے منسوب فراہم کردہ بیان کے مطابق انہوں نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو معاملے کی فوری پیروی اور ذمہ دار شخص کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

تاہم وزیراعظم کی ہدایات سے متعلق مخصوص اعلامیے کی آزادانہ سرکاری تصدیق دستیاب آن لائن ذرائع میں نہیں مل سکی، اس لیے ان تفصیلات کو فراہم کردہ بیان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

لائبہ اعجاز کیس کی تحقیقات جاری

اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کی موت کے واقعے کی پولیس تحقیقات جاری ہیں۔ 10 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ مبینہ تعلیمی فراڈ اور اس میں ایک کنسلٹنٹ کے ممکنہ کردار کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق لائبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھیں اور اس مقصد کے لیے ایک کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا گیا تھا۔ خاندان نے الزام لگایا کہ امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے انتظامات کے نام پر رقم طلب کی گئی اور فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ کے بعد ان کی اصلیت پر سوالات اٹھے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے پس منظر، مبینہ فراڈ اور متعلقہ شخص کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی اصل صورت حال اور موت کی وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ متعلقہ تفتیش اور طبی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جاسکے گا۔

امریکہ میں داخلے کے نام پر مبینہ فراڈ کا الزام

لائبہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک تعلیمی کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے بھاری رقم طلب کی تھی۔ خاندان کے مطابق بعد میں متعلقہ دستاویزات کی جانچ سے ان کے جعلی ہونے کا شبہ سامنے آیا۔

اس معاملے میں رقم کی درست مقدار اور مبینہ فراڈ کی مکمل تفصیلات مختلف میڈیا رپورٹس میں مختلف انداز سے سامنے آئی ہیں۔ اس لیے حتمی رقم، دستاویزات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ شخص کی ذمہ داری کے بارے میں پولیس کی تحقیقات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مبینہ فراڈ کے الزامات کی ابھی حتمی عدالتی توثیق سامنے نہیں آئی۔ قانون کے مطابق متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور الزامات کا جواب دینے کا حق حاصل ہے، جبکہ تفتیشی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر حقائق کا تعین کریں۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی اہم وضاحت

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے لائبہ اعجاز کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریکارڈ کے حوالے سے وضاحت جاری کی۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق لائبہ نے چند سال قبل فزکس میں بی ایس کی ڈگری مکمل کی تھی اور واقعے کے وقت وہ یونیورسٹی میں باقاعدہ زیرِ تعلیم نہیں تھیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ادارے کی یہ وضاحت اہم ہے تاکہ خبر میں ان کی تعلیمی وابستگی کو درست تناظر میں بیان کیا جاسکے۔

ایف آئی اے نے بھی معاملے کا نوٹس لیا

10 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری نے بھی معاملے کا نوٹس لیا اور اہل خانہ سے رابطہ کرکے مزید تفصیلات طلب کیں۔ لائبہ کے ماموں رانا امجد نے ایف آئی اے کی جانب سے رابطے کی تصدیق کی تھی۔

ایف آئی اے کی دلچسپی مبینہ فراڈ اور متعلقہ دستاویزات کے معاملے کی جانچ کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ کسی ادارے کی جانب سے نوٹس لینے یا معلومات طلب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص کے خلاف جرم ثابت ہوگیا ہے۔

انصاف اور تحقیقات میں شفافیت کی ضرورت

لائبہ اعجاز کا معاملہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے نجی کنسلٹنٹس پر انحصار کرنے والے طلبہ اور خاندانوں کے لیے بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ داخلے، اسکالرشپ اور سفری دستاویزات سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اور رقوم کی ادائیگی کے مستند ریکارڈ کو محفوظ رکھنا دھوکا دہی کے خطرات کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

اس کیس میں متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہے کہ اہل خانہ کے الزامات، دستاویزات، مالی لین دین اور ملزم کے مبینہ کردار کا شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندان کو قانونی طریقہ کار کے مطابق تفتیش کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔

مجموعی طور پر لائبہ اعجاز کیس میں وزیراعظم سے منسوب ہدایات، پولیس کی تحقیقات اور ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس لینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اب معاملے کی مزید پیش رفت کا انحصار تفتیشی نتائج، دستاویزات کی تصدیق اور متعلقہ حکام کی باضابطہ کارروائی پر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں