پاکستان کے لیے اعزاز! ڈاکٹر تفخر علی اسدی عالمی ادارے IACA میں آزاد بیرونی آڈیٹر مقرر ہوگئے
یوتھ ویژن نیوز : (ویانا)– پاکستان کے ڈپٹی آڈیٹر جنرل ڈاکٹر تفخر علی اسدی کی آسٹریا میں قائم انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی (IACA) میں اہم تقرری کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق IACA کے بورڈ آف گورنرز نے انہیں 2028 سے 2030 تک کے لیے ادارے کا آزاد بیرونی آڈیٹر (Independent External Auditor) مقرر کیا ہے۔ اس تقرری کی باضابطہ تصدیق کے لیے ادارے کے سرکاری نوٹیفکیشن یا متعلقہ اعلامیے کو دیکھنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر تفخر علی اسدی پاکستان کی آڈٹ اور اکاؤنٹس سروس سے وابستہ افسر ہیں اور سرکاری شعبے میں مالیاتی نگرانی اور احتساب سے متعلق ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی یکم ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ میں بھی انہیں ڈپٹی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔
IACA کیا ہے؟
انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو انسدادِ بدعنوانی، دیانت داری، شفافیت اور متعلقہ شعبوں میں تعلیم و تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کا کیمپس آسٹریا کے علاقے لکسنبرگ میں واقع ہے۔
ادارے کا انتظام بورڈ آف گورنرز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ IACA کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق بورڈ میں 11 ارکان شامل ہوتے ہیں اور تمام ارکان اپنی انفرادی حیثیت میں خدمات انجام دیتے ہیں۔
ان میں سے 9 ارکان کا انتخاب اسمبلی آف پارٹیز کرتی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) اور جمہوریہ آسٹریا کو ایک ایک رکن نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بورڈ میں مختلف علاقائی گروہوں کی نمائندگی بھی شامل ہوتی ہے۔
آزاد بیرونی آڈیٹر کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟
آزاد بیرونی آڈیٹر کا بنیادی مقصد متعلقہ ادارے کے مالی ریکارڈ اور مالیاتی بیانات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ہوتا ہے۔ بیرونی آڈٹ سے ادارے کے مالی معاملات کی درستگی، قابلِ اعتماد رپورٹنگ اور جواب دہی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
IACA کے قواعد کے مطابق آزاد بیرونی آڈیٹر کی تقرری بورڈ آف گورنرز کے اختیارات میں شامل ہے۔ بورڈ ادارے کے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی حسابات کی منظوری دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اس طرح بیرونی آڈٹ ادارے کے مالیاتی نظم و نسق اور شفافیت کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔
تاہم ڈاکٹر تفخر علی اسدی کو اس ذمہ داری کے تحت کون سے مخصوص آڈٹ یا انتظامی امور تفویض کیے جائیں گے، اس بارے میں حتمی تفصیلات تقرری کے سرکاری نوٹیفکیشن یا متعلقہ معاہدے سے ہی واضح ہوسکیں گی۔
ڈاکٹر تفخر علی اسدی کا پیشہ ورانہ پس منظر
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ڈاکٹر تفخر علی اسدی پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس سے وابستہ رہے ہیں اور سرکاری مالیاتی انتظام، بجٹ اور آڈٹ سے متعلق مختلف ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کے تجربے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (بجٹ) کے طور پر خدمات انجام دینا بھی شامل بتایا گیا ہے۔
سرکاری شعبے میں آڈٹ اور اکاؤنٹس کا کام سرکاری وسائل کے استعمال، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی جواب دہی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افسران کی ذمہ داریوں میں مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ، قواعد کی پابندی اور وسائل کے استعمال سے متعلق نگرانی جیسے امور شامل ہوسکتے ہیں۔
تعلیمی قابلیت
فراہم کردہ سوانحی معلومات کے مطابق ڈاکٹر تفخر علی اسدی نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے 2019 سے 2021 کے دوران انتھروپولوجی میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پیشہ ورانہ شناخت آڈٹ اور اکاؤنٹس کے سرکاری شعبے سے وابستہ ہے۔
ان کی تعلیمی قابلیت اور سرکاری خدمات کی مزید تفصیلات کو متعلقہ سرکاری سوانحی ریکارڈ سے ملا کر شائع کرنا زیادہ موزوں ہوگا، خصوصاً اگر خبر میں مکمل تعلیمی اسناد، عہدوں کی مدت یا پیشہ ورانہ کامیابیوں کی تفصیل شامل کرنی ہو۔
پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت
اگر تقرری کی تفصیلات سرکاری طور پر تصدیق ہوجاتی ہیں تو یہ پاکستان کے سرکاری آڈٹ اور مالیاتی شعبے سے وابستہ ایک افسر کے لیے اہم بین الاقوامی ذمہ داری ہوگی۔ ایسے عہدوں پر خدمات انجام دینے سے مختلف ممالک کے مالیاتی اور انتظامی تجربات سے رابطہ مضبوط ہوسکتا ہے اور ادارہ جاتی احتساب کے عالمی طریقۂ کار کو سمجھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ بین الاقوامی اداروں میں کسی افسر کی تقرری کو صرف قومی اعزاز کے طور پر نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آزادانہ آڈٹ میں غیر جانب داری، پیشہ ورانہ معیار، مالیاتی قواعد اور ادارے کے مقررہ تقاضوں کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر تفخر علی اسدی کی IACA میں آزاد بیرونی آڈیٹر کے طور پر 2028 سے 2030 تک تقرری کی خبر پاکستان کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے شعبے کے لیے توجہ طلب پیش رفت ہے۔ خبر کی اشاعت کے ساتھ متعلقہ ادارے کا باضابطہ اعلامیہ یا تقرری کا نوٹیفکیشن شامل کرنا قاری کو مکمل اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔