خیبرپختونخوا حکومت غلط پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی، سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کرک میں لانگ مارچ سے خطاب کی نمایاں تصؤیر

یوتھ ویژن نیوز : (پشاور)- خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وفاقی حکومت کی سیکیورٹی پالیسیوں اور صوبے کے حالات پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جسے وہ عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ”طاقتوروں“ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے اور صوبے کے بارے میں فیصلہ سازی میں عوامی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سہیل آفریدی نے 5 اکتوبر 2026 کو کرک کے جیل چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، فوجی آپریشنز، ڈرون حملوں اور صوبے کو درپیش سیکیورٹی مسائل کا ذکر کیا۔ ان کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب جاری ہے اور وفاقی حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات بھی برقرار ہیں۔

دہشتگردی اور فوجی کارروائیوں پر سہیل آفریدی کا مؤقف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے عوام ایک بار پھر دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں اور اس صورتحال کے نتیجے میں بے گھر ہونے، کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے اور جانی نقصان جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ دعوے وزیراعلیٰ کے سیاسی خطاب کا حصہ تھے، جبکہ ان کے مختلف حصوں کی آزادانہ تفصیلی تصدیق اس موقع پر فراہم نہیں کی گئی۔

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی انسداد دہشتگردی پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کو ایسی پالیسیوں کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے جنہیں وہ صوبے اور عوام کے مفاد میں نہیں سمجھتے۔

”طاقتوروں کو ایبسلوٹلی ناٹ“

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ”ناسمجھی“ ہے تو وہ اس ناسمجھی کو دوبارہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین اور موجودہ نظام کے حوالے سے بھی سخت زبان استعمال کی اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو ملک کو تقسیم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اور عمران خان کے سیاسی مؤقف کے حامی ہیں، جبکہ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کو نظر انداز کرنے یا صوبے کے بارے میں بند کمروں میں فیصلے کرنے کی مخالفت کی جائے گی۔

یہ بیانات وزیراعلیٰ کے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران سامنے آئے اور موجودہ سیاسی کشیدگی میں پی ٹی آئی کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

شہداء کو خراج تحسین، فوجی جوانوں کو اپنے وجود کا حصہ قرار دیا

اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو فوجی جوان ملک کے لیے قربانی دیتے ہوئے شہید ہوتے ہیں وہ ان کے نزدیک قوم اور معاشرے کے وجود کا حصہ ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے موجودہ حکومتی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کریں گے جو ان کے مطابق عوامی مفاد میں نہ ہو۔

انہوں نے سیاسی اختلاف کو فوجی جوانوں کی قربانیوں سے الگ قرار دیتے ہوئے اپنے خطاب میں شہداء کی قربانیوں کے احترام کا اظہار کیا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں بیان

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اپنا سیاسی قائد قرار دیا اور ان کی طویل قید کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے گریز کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی بڑی تعداد عمران خان کی حمایت کرتی ہے اور ان کے مطابق وہی ملک کو موجودہ مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ ”90 فیصد لوگ عمران خان کو چاہتے ہیں“ کا دعویٰ بھی وزیراعلیٰ نے خطاب کے دوران کیا، تاہم اس دعوے کے لیے کسی مخصوص سروے یا تازہ مستند اعداد و شمار کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

صوابی میں آئندہ لائحہ عمل دینے کا اعلان

لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے حوالے سے سہیل آفریدی نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہاں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے جاری کردہ منصوبے کے مطابق مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کو صوابی میں اکٹھا ہونا ہے، جہاں وزیراعلیٰ آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔ پارٹی ترجمان کے مطابق جنوبی اضلاع، پشاور، ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے قافلے مارچ میں شریک ہونے والے ہیں۔

وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات برقرار

سہیل آفریدی کا خطاب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کے پس منظر میں ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک روز قبل کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں اور انہوں نے لانگ مارچ کے آغاز کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر مذاکراتی عمل کو متاثر کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ اس کے سیاسی مطالبات کے حصول اور عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن مؤقف کے درمیان یہ اختلافات موجودہ سیاسی صورتحال میں مزید شدت کا باعث بن رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں ایسی پالیسیاں بننی چاہئیں جو عوام کے مفاد میں ہوں، جبکہ انہوں نے صوابی میں آئندہ لائحہ عمل دینے کا اعلان بھی کیا۔ لانگ مارچ کی آئندہ سمت اور سیاسی صورتحال پر اس اعلان کے ممکنہ اثرات آئندہ پیش رفت کے ساتھ واضح ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں