اسرائیلی فوج کا حماس پر فضائی حملہ، حماس کے اہم کمانڈر محمد القادی ہلاک ہوگئے۔

خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملہ اور حماس کمانڈر محمد القادی

یوتھ ویژن نیوز : جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اسرائیلی فوج نے ایک فضائی کارروائی کے دوران حماس کے ایلیٹ یونٹ ’نخبا‘ سے وابستہ کمپنی کمانڈر محمد محمود مرشد القادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس معلومات، نگرانی اور ہدف کی شناخت کے بعد کی گئی۔ تاہم القادی کی ہلاکت سے متعلق تفصیلات بنیادی طور پر اسرائیلی فوج کے بیان پر مبنی ہیں۔

اسرائیلی فوج اور اس کے سیکیورٹی ادارے شاباک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد القادی کو خان یونس میں ایک فضائی حملے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے عسکری ونگ کی نخبا فورس میں کمپنی کمانڈر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

محمد محمود مرشد القادی پر اسرائیل کے الزامات

اسرائیلی فوج کے مطابق محمد القادی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف حماس کی کارروائی کے دوران غزہ کی سرحد کے قریب واقع ’سوفا‘ فوجی چوکی پر حملے کی قیادت کی تھی۔

اسرائیلی دعوے کے مطابق وہ بعد ازاں غزہ میں جاری جنگ کے دوران رفح کے علاقے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس کی تحویل میں رکھنے کی ذمہ داری سے بھی منسلک رہے۔ اسرائیلی فوج نے مزید الزام عائد کیا کہ حالیہ عرصے میں القادی حماس کے جنگجوؤں کو تربیت دینے اور تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنے کی سرگرمیوں میں شامل تھے۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ محمد القادی مستقبل میں اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری میں کردار ادا کر رہے تھے۔ فوج نے اپنے بیان میں ان سرگرمیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر انہیں ہدف بنایا گیا۔

خان یونس میں کارروائی اور جنگ بندی کی صورتحال

محمد القادی کی ہلاکت کا اسرائیلی اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے 4 ستمبر 2026 کو کہا کہ 28 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 24 فلسطینی مارے گئے، جن میں چار بچے اور ایک خاتون شامل تھیں۔ دفتر کے مطابق ان میں سے 21 افراد فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں شہریوں کا تحفظ ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔

اسی طرح فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق 4 ستمبر کو بھی خان یونس کے مغربی علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک فلسطینی جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے، جبکہ شہر کے شمال میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی کے جاں بحق اور تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی گئی۔

غزہ میں انسانی بحران بدستور برقرار

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی انسانی صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ 2 ستمبر کی بریفنگ میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے بتایا کہ غزہ کی 2.1 ملین آبادی کی اکثریت بدستور بے گھر ہے اور مسلسل فضائی حملوں اور دیگر عسکری کارروائیوں کے باعث شہریوں کو جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 کے آغاز تک اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تقریباً 73,470 فلسطینی جاں بحق جبکہ 174,540 زخمی ہو چکے تھے۔ یہ اعداد فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے حملے کا پس منظر

7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں نے غزہ سے اسرائیل کی جانب اچانک حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، بڑی تعداد میں افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی، جو تقریباً دو برس تک جاری رہنے کے بعد اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے مرحلے میں داخل ہوئی۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود غزہ میں وقفے وقفے سے اسرائیلی حملوں اور فلسطینی مسلح گروہوں کے ساتھ کشیدگی جاری ہے۔

محمد محمود مرشد القادی کی ہلاکت بھی اسی جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی فوج اسے ایک ایسے کمانڈر کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ مستقبل میں حملوں کی تیاری میں مصروف تھا، جبکہ آزاد ذرائع سے ان تمام اسرائیلی الزامات کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

غزہ میں جاری صورتحال ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شہری آبادی کو درپیش خطرات ختم نہیں ہوئے۔ اقوام متحدہ مسلسل تمام فریقوں پر زور دے رہا ہے کہ شہریوں، امدادی کارکنوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔

یوتھ وژن نیوز کے لیے اہم نوٹ: اس خبر میں محمد القادی کی ہلاکت اور ان سے منسوب عسکری کردار کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے دعووں کو بطور دعویٰ بیان کیا گیا ہے، جبکہ غزہ میں مجموعی ہلاکتوں کے اعداد فلسطینی وزارت صحت سے منسوب ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں