لارڈز ٹیسٹ میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کیوں نشر کیا گیا؟ پی سی بی نے شکایت کردی
یوتھ ویژن نیوز : عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر پی سی بی کی اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت
لندن/اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیے جانے پر اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت کی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق انٹرویو بارش سے متاثرہ میچ کے دوران لنچ بریک میں نشر کیا گیا، جس میں قاسم اور سلیمان خان نے اپنے والد عمران خان کی قید اور ان کے مطابق جیل میں حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔
عمران خان کے بیٹوں نے کیا کہا؟
رپورٹ کے مطابق انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی طویل قید اور ان کی صحت و جیل میں حالات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ قاسم خان نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ ان کے والد کو طویل عرصے تک قید رکھنے اور ان کی آواز محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے لیے مدِمقابل تھیں۔ میچ کا پہلا روز بارش اور خراب روشنی کے باعث کئی مرتبہ متاثر ہوا، تاہم کھیل کے دوران پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے انگلینڈ کے اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس سے کیا شکایت کی؟
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شکایت بنیادی طور پر اس بات سے متعلق تھی کہ براڈکاسٹر نے ایسے افراد کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دی جو پاکستانی حکومت کے ناقد ہیں۔
اس معاملے نے کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ انٹرویو کی نشریات پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اہم ٹیسٹ میچ کی براہ راست کوریج کے دوران ہوئی۔
اسکائی اسپورٹس کا ردعمل
رپورٹ کے مطابق اسکائی اسپورٹس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم براڈکاسٹر نے معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اس معاملے پر دستیاب رپورٹنگ میں شکایت کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں، اس لیے پی سی بی کے اعتراضات کے تمام نکات کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
عمران خان کی جیل اور صحت سے متعلق خدشات
عمران خان اگست 2026 میں بھی جیل میں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے ان کے اہل خانہ اور وکلا کی جانب سے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انہیں طبی معائنے اور علاج کے لیے مختصر مدت کے لیے اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔ دی گارڈین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کے باعث ان کے علاج اور جیل کے حالات پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے خاندان اور وکلا کی جانب سے جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک اور طبی سہولیات سے متعلق مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ایسے دعووں کو متعلقہ فریقین کے مؤقف اور آزادانہ تصدیق کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بہتر کارکردگی
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان کرکٹ ٹیم لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا رہی تھی۔ انگلینڈ نے دن کا اختتام 248 رنز پر 9 وکٹوں کے ساتھ کیا، جبکہ محمد عباس نے چار اور محمد علی نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
بارش اور خراب روشنی کے باعث میچ کا دورانیہ بھی متاثر ہوا، لیکن پاکستان کے باؤلنگ اٹیک نے پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز سے شکست کے بعد نمایاں بہتری دکھائی۔
معاملہ کیوں اہم ہے؟
کھیلوں کی نشریات میں کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں اور دیگر متعلقہ شخصیات کے انٹرویوز معمول کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم جب کوئی انٹرویو موجودہ سیاسی تنازع سے متعلق ہو تو اس کی نشریات اضافی حساسیت اختیار کرلیتی ہے۔
عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم ہونے کے ساتھ سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے خاندان سے متعلق کوئی بھی گفتگو پاکستان کرکٹ کی کوریج کے دوران خاص توجہ حاصل کرتی ہے۔
پی سی بی کی جانب سے شکایت اور اسکائی اسپورٹس کی جانب سے اس کی وصولی کی تصدیق کے بعد معاملہ اب دونوں اداروں کے درمیان رابطے تک محدود نہیں رہا بلکہ برطانوی میڈیا میں بھی نمایاں ہوگیا ہے۔ تاہم شکایت کی حتمی نوعیت، اس پر آئندہ کیا کارروائی ہوگی اور آیا اسکائی اسپورٹس کی جانب سے کوئی تفصیلی جواب دیا جائے گا، اس بارے میں فی الحال مزید معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
یوتھ ویژن نیوز کے مطابق، لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت کی ہے۔ اسکائی اسپورٹس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔