طلبا کے مطالبات منظور، بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز : (نئی دہلی)-بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری طلبا احتجاج اہم پیش رفت کے بعد ختم کر دیا گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
حکومت سے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم کرنے کا اعلان
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے اور طلبا کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔
بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی
احتجاج ختم کرنے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ بھی وزیرِ تعلیم کے استعفے سمیت امتحانی نظام میں اصلاحات تھا۔
امتحانی پرچے لیک ہونے پر ملک گیر احتجاج
بھارت بھر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبا امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔
حکومت نے طلبا کے اہم مطالبات تسلیم کر لیے
بھارتی وفاقی وزیر جے پی نڈا، جتیندر سنگھ اور طلبا رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے متعدد اہم مطالبات منظور کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق NEET امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کو باوقار معاوضہ دیا جائے گا جبکہ احتجاجی طلبا کے خلاف درج تمام مقدمات بھی واپس لیے جائیں گے۔
طلبا کے چھ بنیادی مطالبات کیا تھے؟
احتجاج کا آغاز میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے بعد ہوا، جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔
طلبا کے بنیادی مطالبات میں شامل تھے:
- پرچہ لیک میں ملوث نیٹ ورکس کے لیے سخت سزائیں اور جرمانے۔
- ہر واقعے پر متعلقہ وزیر کی پارلیمنٹ میں جواب دہی۔
- سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں لازمی تحقیقات۔
- آزاد امتحانی محتسب اور وینڈر اتھارٹی کا قیام۔
- تمام امتحانی اداروں کا شفاف آڈٹ۔
- تمام ریاستوں کے لیے امتحانات کی شفافیت کا مشترکہ فریم ورک۔
احتجاج کے دوران نئے مطالبات بھی سامنے آئے
احتجاج کے دوران طلبا نے مزید مطالبہ کیا کہ پرچہ لیک کے باعث خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ بھارتی روپے معاوضہ دیا جائے اور اس معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف تمام حکومتی کارروائیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
احتجاج کے بعد تعلیمی اصلاحات پر توجہ
سیاسی مبصرین کے مطابق اس احتجاج نے بھارت کے امتحانی نظام میں موجود خامیوں کو نمایاں کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد اب توجہ تعلیمی اصلاحات، امتحانی شفافیت اور طلبا کے اعتماد کی بحالی پر مرکوز رہے گی۔