امریکا کا ایران پر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا الزام، سفارتی حل کی خواہش کا اعادہ
مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، بحران کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں
یوتھ ویژن نیوز : (واشنگٹن)-امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا خطے میں کشیدگی کے باوجود تنازع کے سفارتی حل کا خواہاں ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مارکو روبیو نے ایران پر سنگین الزامات عائد کر دیے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت سنگین مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کا رویہ مثبت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے موجودہ بحران کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن ایران اس وقت سنجیدہ مذاکراتی رویہ اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کر رہا ہے، جو عالمی تجارت اور خطے کے امن کے لیے خطرناک پیش رفت ہے۔
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، امریکی وزیر خارجہ
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی صدر کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران نے ایک مفاہمتی معاہدے (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، تاہم بعد ازاں اس کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کا خواہاں ہے اور خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔
روس، یوکرین اور چین سے متعلق بھی اہم بیان
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کا حامی ہے اور اس سلسلے میں روسی وزیر خارجہ سے جلد ملاقات متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چینی ہم منصب کے ساتھ بھی مثبت ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارتی امور سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینٹکام کا ایران پر مزید فضائی حملوں کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مسلسل گیارہویں رات ایران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی کارروائیاں کیں۔
سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہوئے۔
تاہم ایران اس سے قبل ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیتا آیا ہے۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ ایک جانب امریکا سفارتی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک کے الزامات اور عسکری کارروائیاں خطے کے امن، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔