بھارت کا ملٹی لیٹرل ایونٹس کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے دینے کا اعلان
نئی دہلی (یوتھ ویژن نیوز) – بھارتی حکومت نے اپنی اسپورٹس پالیسی میں نرمی لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت میں ہونے والے بین الاقوامی یا کثیر القومی کھیلوں کے مقابلوں (جیسے ورلڈ کپ یا ایشیا کپ) کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرے گی۔
یہ فیصلہ بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کی جانب سے مسلسل دباؤ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی سفارتی کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔ بھارت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملٹی لیٹرل ایونٹس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کو کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
دو طرفہ سیریز بحال کرنے سے انکار
تاہم، نئی دہلی نے واضح کیا ہے کہ جب تک سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال مکمل طور پر بہتر نہیں ہوتی، تب تک دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ کرکٹ یا دیگر کھیلوں کی سیریز بحال نہیں کی جائے گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آنے والے وقت میں کوئی ٹیسٹ سیریز، ون ڈے یا ٹی ٹونٹی سیریز منعقد نہیں ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان آخری دو طرفہ سیریز 2012-13 میں ہوئی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔
تاریخی پس منظر
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات ہمیشہ سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ کرکٹ سیریز معطل ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد صرف ملٹی لیٹرل ایونٹس جیسے ورلڈ کپ، ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوتی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کئی بار بھارت سے دو طرفہ سیریز بحال کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن بھارتی حکومت ہمیشہ سیکیورٹی کے خدشات کو بہانہ بنا کر انکار کرتی رہی ہے۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ فیصلہ ایک چھوٹی سی نرمی ہے لیکن مکمل بحالی کے لیے ابھی کافی وقت درکار ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور دیگر کھیلوں کی تنظیمیں دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آنے والے مہینوں میں بھارت میں کرکٹ ورلڈ کپ اور ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹس ہونے والے ہیں، جہاں پاکستانی کھلاڑی حصہ لے سکیں گے۔
عالمی ردعمل
بھارت کے اس اعلان پر بین الاقوامی کھیلوں کے حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آئی سی سی نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کھیلوں کی روح کو تقویت ملے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بھارتی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم دو طرفہ سیریز بحال نہ کرنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔