امریکہ اور ایران تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کا جامع فریم ورک، جلد معاہدے کی امید ، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جلد ہی ایک بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔ پاکستان نے اس سلسلے میں ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جو دونوں ممالک کو پیش کیا جا چکا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا: "ہم پر امید ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان معاملہ حل ہو جائے گا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ معاہدہ جلد از جلد ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک "ایماندار سہولت کار اور ثالث” کے طور پر تمام معلومات کی حفاظت کر رہا ہے۔
ممکنہ معاہدے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ایک صفحے پر مشتمل یادداشت مفاہمت (MoU) کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- جنگ کے خاتمے کا اعلان
- آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا
- ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی
- ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی (یورینیم افزودگی پر کم از کم 12 سال کی روک)
- تقریباً 30 دن کی تفصیلی مذاکرات کی مدت
ذرائع کے مطابق 80 سے 85 فیصد مسائل پہلے ہی حل ہو چکے ہیں، البتہ جوہری مسئلہ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے。
آبنائے ہرمز کی صورتحال
ترجمان کے بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے کے اشارے دے دیے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا: "اگر ایران اس بات پر متفق ہو جاتا ہے جو طے پایا ہے، تو ہائیڈی بلاک ہٹا دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دیا جائے گی، بشمول ایران۔”
دوسری جانب ایران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکی خطرات ختم ہو جائیں تو آبنائے ہرمز سے گزر ممکن ہو جائے گا۔
عالمی معیشت پر اثرات
اس ممکنہ معاہدے سے نہ صرف علاقائی استحکام آئے گا بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کی توقع ہے۔ خبروں نے تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے جس سے عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے اس سلسلے میں تمام فریقین کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس موقع پر کہا کہ پاکستان پرامن حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
اس سے قبل 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جبکہ 11-12 اپریل کو اسلام آباد میں پہلے دور کے مذاکرات ہوئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرا دور کب اور کہاں منعقد ہوتا ہے اور کیا واقعی ایک جامع معاہدہ طے پاتا ہے۔