امریکا۔ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی عالمی سطح پر تسلیم

امریکا، ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستانی ثالثی کی دنیا معترف

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے دوران پاکستان کی سفارتی ثالثی کو عالمی سطح پر اہم اور مؤثر کردار کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد اس وقت ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جو بیک وقت دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں رہ کر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتکاری کا نازک توازن

سینئر اینکر پرسن فہد حسین اور ایران امور کے ماہر ولی نصر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں اس وقت جنگی دباؤ اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف مذاکرات کے نئے دور کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے راستے سمندری دباؤ اور ناکہ بندی جیسے اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دباؤ اور مذاکرات ایک ساتھ چل رہے ہیں، جو جدید عالمی تنازعات کی ایک نئی شکل ہے۔

آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا دباؤ

گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے پر کسی بھی قسم کی جزوی یا غیر یقینی ناکہ بندی عالمی توانائی کی ترسیل، انشورنس اخراجات اور سپلائی چین پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مکمل بندش سے زیادہ نظام کو غیر مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی کی عکاس ہے، جس کے عالمی معیشت پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات اور پاکستان کا کردار

تجزیہ کاروں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکا۔ایران مذاکرات کو 2015 کے بعد سب سے اہم براہِ راست سفارتی رابطہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اختلافات اس بات پر نہیں تھے کہ معاہدہ ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ اس پر تھے کہ معاہدے کی مدت کیا ہو۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت واحد ملک ہے جو دونوں فریقین کے ساتھ اعتماد اور رابطے کی مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، جس میں امریکہ، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔

پاکستان کی سفارتی حیثیت میں تبدیلی

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی اسے خطے میں ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد نہ صرف رابطے کا مرکز ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کر رہا ہے جہاں فریقین بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی غیر جانبداری اور متوازن سفارتکاری اسے ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے، جو عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مددگار ہے۔

صورتحال بدستور نازک مگر امید باقی

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم صورتحال اب بھی حساس اور غیر یقینی ہے۔ جنگ بندی محدود ہے اور فوجی دباؤ مسلسل برقرار ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ حل کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ ایران معاشی ریلیف چاہتا ہے جبکہ امریکا طویل تنازع سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار آئندہ مرحلے میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں