ریاست بہاولپور کا قیام پاکستان میں کردار | جناح پیپرز کے نئے شواہد

قائداعظم پیپرز: 1947 کے ٹیلی گرامز سے نئے تاریخی ثبوت سامنے آئے

خصؤصی تحریر : ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی

جناح پیپرز کے ٹیلی گرامز سے انکشاف: 17 فروری 1947 کو قائداعظم اور ہیرالڈ میکملن کی ملاقات بہاولپور ہاؤس کراچی میں طے ہوئی، جو ریاست بہاولپور کی عملی شرکت کا اہم ثبوت ہے۔

برصغیر کی تاریخ میں قیامِ پاکستان کے عمل کو عموماً آل انڈیا مسلم لیگ، برطانوی حکومت اور کانگریس کے باہمی سیاسی تصادم کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، بہت سے ”معاون کردار“ ایسے بھی ہیں جن کی عملی شرکت یا تو کم بیان ہوئی یا پھر محض رسمی حمایت کے طور پر پیش کر دی گئی۔

اسی سیاق میں سابق ریاستِ بہاولپور اور نواب صادق محمد خان خامس عباسی کے کردار پر نئی بحث اس وقت مزید مضبوط ہوتی ہے جب قائداعظم پیپرز یا جناح پیپرز میں محفوظ دستاویزات خصوصاً ٹیلی گرامز اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان سے چند ماہ قبل ایک اہم برطانوی نمائندے سے قائداعظم کی ملاقات کا مقام بہاولپور ہاؤس، ملیر، کراچی مقرر کیا گیا تھا۔

تحقیقی متن کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت اس نتیجے تک پہنچ چکی تھی کہ ہندوستان میں اقتدار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ مارچ 1946 میں Cabinet Mission Plan کے ذریعے اقتدار کی منتقلی اور ہندوستان کی وحدت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی، مگر مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان اور کانگریس کے متحدہ ہندوستان کے مؤقف کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوا۔

سیاسی کشیدگی بڑھنے پر فروری 1947 میں برطانوی حکومت نے ہیرالڈ میکملن (Harold Macmillan) کو برصغیر کی سیاسی، انتظامی اور فوجی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا۔ میکملن نے روانگی سے قبل لیاقت علی خان کو ایک خفیہ ٹیلی گرام ارسال کیا جس میں قائداعظم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ وہ 17 فروری کو بمبئی سے کراچی پہنچیں گے۔

ریاستِ بہاولپور کے لاہور اور پنجاب پر تاریخی احسانات

اس کے جواب میں لیاقت علی خان کی جانب سے 11 فروری 1947 کو میکملن کو جوابی ٹیلی گرام ارسال ہوا جس میں ملاقات کا مقام واضح طور پر بہاولپور ہاؤس، ملیر، کراچی مقرر کیا گیا۔ اسی جوابی ٹیلی گرام میں ملاقات کا وقت “شام 5:30 بجے چائے پر” درج ہے اور قائداعظم کا ٹیلی فون نمبر بھی شامل بتایا گیا ہے۔ تحقیقی نقطۂ نظر سے اس مقام کا تعین محض انتظامی سہولت نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک تاریخی اشارہ بن جاتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں ریاستِ بہاولپور کے وسائل اور سیاسی قربت کس سطح پر کارفرما تھی۔

اس دستاویزی اشارے سے کم از کم دو بڑے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ اول، یہ کہ نواب صادق محمد خان خامس عباسی نے کراچی میں واقع اپنی ذاتی رہائش (بہاولپور ہاؤس) قائداعظم کے استعمال کیلئے فراہم کی—اور یہ عمارت محض رہائش نہیں بلکہ اعلیٰ سطحی سفارتی اور سیاسی ملاقاتوں کیلئے بھی زیر استعمال رہی۔ قیامِ پاکستان کے آخری اور نازک مہینوں میں جب ہر ملاقات کی سیاسی قیمت اور سفارتی اہمیت بڑھ چکی تھی، کسی ریاستی محل یا نواب کے ذاتی ہاؤس میں برطانوی نمائندے اور قائداعظم کی ملاقات کا طے ہونا ریاستِ بہاولپور کی عملی قربت اور اعتماد کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔

دوم، یہ کہ ریاستِ بہاولپور کا کردار رسمی حمایت سے بڑھ کر “عملی شرکت” کی سطح پر سامنے آتا ہے۔ سیاسی عمل میں شرکت صرف بیانات یا خیرسگالی پیغامات سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس میں وسائل، جگہ، وقت، سہولت اور پشت پناہی بھی شامل ہوتے ہیں۔ بہاولپور ہاؤس میں ملاقات کا انعقاد اسی “دامے، درمے، قدمے اور سخنے” والی معاونت کے تصور کو تقویت دیتا ہے—یعنی ریاستِ بہاولپور نے قائداعظم کے سیاسی مشن کی حمایت کے ساتھ اپنی حیثیت اور وسائل کو بھی بروئے کار لایا۔

اسی عرصے میں 20 فروری 1947 کو برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے اقتدار کی منتقلی کا اعلان کیا۔ بعد ازاں برصغیر کی سیاسی صورتحال کی نزاکت، مسلم لیگ کی منظم قوت، اور پاکستان کے مطالبے کے ناقابلِ نظرانداز ہونے نے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو تیز کیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن آخری وائسرائے مقرر ہوئے اور Indian Independence Act 1947 کی منظوری کے بعد اگست 1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ہیرالڈ میکملن بعد میں برطانیہ کے وزیر اعظم (1957 تا 1963) بنے، جس سے اس دورے اور رپورٹس کی سیاسی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔

اس تحقیقی متن کا مجموعی مقدمہ یہ ہے کہ جناح پیپرز میں محفوظ ٹیلی گرامز اور متعلقہ دستاویزات، بہاولپور ہاؤس کراچی میں اہم ملاقات کی نشان دہی کرتے ہوئے، ریاستِ بہاولپور کے کردار کو “بعد از قیامِ پاکستان” کی محض ایک حامی ریاست کے بجائے “قبل از قیامِ پاکستان” ایک فعال معاون اور شرکت دار کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ یہ زاویہ تاریخ کے اُن بابوں کیلئے بھی اہم ہے جہاں ریاستی تعاون کی نوعیت کو عمومی بیانیوں میں محدود کر دیا گیا ہے۔

آخر میں مصنف نے Macmillan & Co. Publishers کے پس منظر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے—یہ ادارہ میکملن خاندان کا اشاعتی کاروبار تھا، جس کی کتابیں دنیا بھر کی لائبریریوں میں دستیاب رہیں۔ یہ ضمنی حوالہ بتاتا ہے کہ مذکورہ برطانوی نمائندہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کا علمی و اشاعتی دنیا میں بھی اثر موجود تھا، اور اسی پس منظر میں اس کے مشاہدات و رپورٹس کی سیاسی و فکری اہمیت پر مزید غور کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں