ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور: بیوی، بچوں اور گھر کے دیگر افراد کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عاقب قریشی سے) پارلیمنٹ نے ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا، اب بیوی، بچوں اور گھر کے دیگر افراد کے جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی تحفظ کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 منظور کر لیا گیا، جو بیوی، بچوں، بزرگ افراد، معذور، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور ایک ساتھ رہنے والے دیگر افراد کے سماجی تحفظ کے لیے سخت قانونی اقدامات فراہم کرتا ہے۔ اب سے بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گالی دینا، جسمانی یا نفسیاتی اذیت پہنچانا جرم قرار پایا ہے۔
صدر مملکت کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کی صدارت
بل کے مطابق متاثرہ افراد کو جذباتی اور نفسیاتی پریشانی کا سامنا کرانے پر 3 سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ قانون میں بیوی، بچوں یا دیگر گھر میں موجود افراد کو جسمانی تکلیف دینے، مرضی کے بغیر گھر میں رکھنے، عزت نفس یا پرائیویسی مجروح کرنے اور معاشی و جنسی استحصال شامل ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 3 سال سزا دی جا سکتی ہے۔
عدالت میں درخواست کی صورت میں سماعت 7 روز کے اندر اور فیصلہ 90 روز میں کیا جائے گا۔ متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش کا حق حاصل ہوگا یا جوابدہ شخص رہائش کا انتظام کرے گا۔ تشدد کرنے والے پر متاثرہ شخص سے دور رہنے کے احکامات، اور GPS ٹریکر پہننے کی ہدایات بھی دی جائیں گی۔
ڈومیسٹک وائلنس بل میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی بدسلوکی کی تعریف کی گئی ہے، جس سے متاثرہ شخص کو نفسیاتی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ قانون پاکستان میں خواتین، بچوں اور گھر کے دیگر کمزور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے اور سماجی انصاف کو مضبوط بنائے گا۔