پاکستان میں کپاس: ملکی معیشت کا سفید سونا اور روزگار کا ستون
سٹوڈنٹ آف سوئل سائنس (7th) سمسڑ ڈیپارٹمنٹ آف سوئل سائنس فیکلیٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوارمنٹ
دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور۔
کپاس کو پاکستان میں "سفید سونا” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایک اہم نقد آور فصل ہے بلکہ ملکی معیشت کا ستون بھی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کپاس بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے اور یہ ملک کی سب سے اہم برآمدی فصلوں میں سے ایک ہے۔ کپاس نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کا خام مال فراہم کرتی ہے بلکہ لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور فیکٹری ورکرز کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں کپاس کا کردار اس قدر اہم ہے کہ ملکی زرِمبادلہ کا بڑا حصہ اسی فصل کی بنیاد پر حاصل کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کپاس کو زراعت، صنعت اور تجارت تینوں شعبوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ کپاس پاکستان کی معیشت کا بنیادی صنعتی خام مال ہے۔ کپاس پاکستان میں زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا سب سے اہم خام مال ہے۔ کپاس اور ٹیکسٹائل سیکٹر مل کر ملک کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ملکی *GDP کا 8.5% حصہ بنتی ہے اور صنعتی پیداوار اور برآمدات میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف کپاس کی بنیاد پر کام کرتا ہے بلکہ ملک کے صنعتی آؤٹ پٹ کا 46 فیصد اور برآمدات کا 54 فیصد حصہ بھی فراہم کرتا ہے۔]
کپاس پر انحصار رکھنے والا ٹیکسٹائل سیکٹر ملک کی تقریباً 40 فیصد صنعتی ورک فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے۔اس صنعت میں ہزاروں جننگ یونٹس، اسپننگ ملز، اور کپاس سے منسلک فیکٹریاں فعال ہیں جو لاکھوں افراد کو روزگار دیتی ہےپاکستان کپاس میں دنیا کا چوتھا بڑا پیدا کرنے والا ملک ہے اور ایشیا میں تیسری سب سے بڑی سپننگ صلاحیت رکھتا ہے، جو صنعتی پیداوار کے لیے ایک مضبوط بیس فراہم کرتی ہے۔
زراعت سے حاصل ہونے والے ضمنی فوائد میں مویشی پالنا، دودھ اور گوشت کی پیداوار، اون، کھالیں، شہد اور زرعی فضلہ شامل ہیں، جو مختلف صنعتوں کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں۔ فصلوں کے باقیات سے نامیاتی کھاد اور بائیو گیس تیار کی جا سکتی ہے، جو زمین کی زرخیزی بڑھانے کے ساتھ ساتھ توانائی کا ماحول دوست ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح زراعت ماحولیاتی توازن، پانی کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
زراعت محض خوراک، فائبر اور ایندھن کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت نظام ہے جو معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہےتاہم 2025 میں کپاس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو بہتر پالیسی سازی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور کسان دوست اقدامات کی صورت میں مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، زراعت اور بالخصوص کپاس کا شعبہ پاکستان کی معاشی خود کفالت، صنعتی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، بشرطیکہ اس کے مسائل کا حل سائنسی اور پالیسی سطح پر سنجیدگی سے کیا جائے۔
پاکستان میں کپاس زراعت کا ایک کلیدی جزو اور ٹیکسٹائل صنعت کی بنیاد ہے، مگر گزشتہ دہائیوں میں اس کی پیداوار میں کمی، موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی قلت، معیاری بیجوں کی عدم دستیابی، بیماریوں اور کمزور حکومتی پالیسیوں نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملنا اور آڑھتیوں کا دباؤ بھی پیداوار میں کمی کی اہم وجوہات ہیں، جس کے نتیجے میں روئی کی درآمدات میں اضافہ ہوا اور معیشت پر بوجھ پڑا۔تاہم 2025 میں کپاس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو بہتر پالیسی سازی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور کسان دوست اقدامات کی صورت میں مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، زراعت اور بالخصوص کپاس کا شعبہ پاکستان کی معاشی خود کفالت، صنعتی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، بشرطیکہ اس کے مسائل کا حل سائنسی اور پالیسی سطح پر سنجیدگی سے کیا جائے۔کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے سب سے پہلے بہتر اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں کا فروغ ناگزیر ہے، تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ اس کے ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی، خصوصاً ٹپکاؤ آبپاشی اور مؤثر زرعی نظم و نسق کو اپنانا ضروری ہے تاکہ پانی کے بحران اور موسمی خطرات کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
کسانوں کو معاشی ریلیف فراہم کیے بغیر کپاس کی کاشت میں اضافہ ممکن نہیں۔ بہتر امدادی قیمت، بروقت سبسڈی اور ماضی کی ناقص پالیسیوں، جیسے گندم کی قیمتوں کے غیر مؤثر نظام، سے بچاؤ ضروری ہے تاکہ کسان کپاس کو دوبارہ ایک منافع بخش فصل کے طور پر اپنائیں۔ حکومتی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مقامی پیداوار کو تحفظ دیں، جن میں غیر ضروری درآمدات پر ڈیوٹی اور روئی و خام مال پر درمیانی مدت کے لیے ٹیکس میں نرمی شامل ہو۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت 2025 کی حکمت عملی کا بنیادی ہدف پیداوار میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار میں کمی ہونا چاہیے۔ کپاس کو مقامی ٹیکسٹائل صنعت سے مؤثر طور پر جوڑ کر برآمدی مصنوعات میں تبدیل کرنا نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ کرے گا بلکہ ٹیکسٹائل اور متعلقہ شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں کے اشتراک سے ایک مربوط اور پائیدار روڈ میپ تیار کیے بغیر کپاس کی صنعت کی بحالی ممکن نہیں۔
کپاس پاکستان کی ایک اہم زرعی فصل ہے، تاہم اسے آب و ہوا کی تبدیلی، درجۂ حرارت میں اضافہ، بارشوں میں کمی، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے حملے، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی، کسانوں کو بیج، کھاد اور پانی کی عدم دستیابی، کم پیداواری قیمت اور منڈی میں عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کے نتیجے میں کپاس کی پیداوار اور معیار متاثر ہوتا ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی کپاس کی نئی اقسام تیار کی جائیں، پانی کی بچت کرنے والے جدید زرعی طریقے اپنائے جائیں، زمین کی زرخیزی بہتر بنانے کے لیے نامیاتی کھاد اور دیگر اصلاحی مواد استعمال کیا جائے، کسانوں کو جدید زرعی تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جائے، اور کپاس کی منڈی میں استحکام پیدا کرنے کے لیے مؤثر اور کسان دوست حکومتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔
الغرض، کپاس پاکستان کی معیشت میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ٹیکسٹائل صنعت کی بنیاد، زرعی شعبے کا اہم ستون اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، جبکہ اس کے فوائد صرف کپڑے تک محدود نہیں بلکہ بنولہ تیل، جانوروں کے چارے اور توانائی کی پیداوار تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سیلاب، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجز کے باعث کپاس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، تاہم تحقیق و ترقی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مؤثر حکومتی تعاون کے ذریعے نہ صرف کپاس کے معیار اور پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ برآمدات میں اضافہ اور معاشی استحکام کے ساتھ غربت میں کمی بھی ممکن ہے۔