شزا فاطمہ خواجہ کی قیادت میں سول سروسز اکیڈمی میں اے آئی ماڈیول کی شروعات
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے سول سروسز اکیڈمی میں مصنوعی ذہانت ماڈیول کا افتتاح کیا، تاکہ سول سرونٹس کو جدید AI تربیت فراہم کی جا سکے۔
یوتھ ویژن نیوز : ( خصؤصی رپورٹ برائے عفان گوہر سے) وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں سول سروسز اکیڈمی (CSA) میں مصنوعی ذہانت (AI) ماڈیول کا افتتاح کیا۔
اسلام آباد : جمعرات کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس پروگرام میں بلوچستان سے 52، سندھ سے 46 اور وفاقی وزیر کی حوصلہ افزائی پر سندھ سے مزید 10 پروبیشنری افسران شامل تھے۔
یہ ماڈیول وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام، پلاننگ کمیشن، سول سروسز اکیڈمی اور ایٹم کیمپ کے باہمی اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے افسران کو وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن وژن اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ سے آگاہ کیا، جو ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹل سوسائٹی اور ڈیجیٹل گورننس کے تین ستونوں پر پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن کی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مزید: وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ سے داماک گروپ کی ملاقات۔
وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نیشنل مصنوعی ذہانت پالیسی حکومت کے اندر ہیومن کیپیسٹی بلڈنگ پر زور دیتی ہے اور CSA میں AI ماڈیول کا آغاز اسی عزم کا عملی اظہار ہے تاکہ سول سرونٹس کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت 150 پروبیشنری افسران کے لیے دو روزہ جامع تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں AI کی بنیادیات، پرامپٹ انجینئرنگ، انتظامی و تحقیقی استعمال، پروڈکشن ٹولز اور حکومت میں AI کے اخلاقی استعمال پر تربیت دی گئی۔
پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام بھی مکمل کیا گیا، جس میں 30 فیکلٹی ممبران ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت یافتہ ہوئے۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ AI کی تربیت اب باقاعدہ طور پر سول سروسز اکیڈمی کے نصاب کا حصہ بن چکی ہے تاکہ ہر آنے والے بیچ کو منظم AI تعلیم حاصل ہو۔
وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے CSA اور ایٹم کیمپ کی شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ آئندہ مراحل میں AI کے مزید جدید تصورات پر مبنی تربیت اور اشاعتیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے 39 میں سے 38 ڈویژنز میں ای آفس کا 100 فیصد نفاذ ہو چکا ہے، جس سے فائلوں کی پراسیسنگ کا وقت 25–30 دن سے کم ہو کر صرف چار دن رہ گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد ہے، جسے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی معاونت حاصل ہے۔ انہوں نے سول سروسز اکیڈمی کی قیادت کو سراہا اور ایٹم کیمپ کا شکریہ ادا کیا، اور عزم ظاہر کیا کہ AI تربیت کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور اسے مڈ کیریئر اور سینئر افسران تک وسعت دی جائے گی، تاکہ پاکستان کے ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک سے ہم آہنگ ہو۔