پی آئی اے: ایک قومی خواب، جسے ہم سنبھال نہ سکے
تحریر کنندہ : (علی رضا ابراہیم غوری سے)
پاکستان میں اگر کسی ادارے کی کہانی امید، وقار اور پھر زوال کی علامت بن چکی ہے تو وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ہے۔ ایک وقت تھا جب پی آئی اے کو دنیا مثال کے طور پر دیکھتی تھی۔ ایشیا میں جیٹ طیاروں کا آغاز، فضائی سفر میں جدت، نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ مہارت یہ سب پی آئی اے کی شناخت تھے۔ آج یہی ادارہ خسارے، قرضوں اور نجکاری کی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے کیوں بکی، اصل سوال یہ ہے کہ اسے یہاں تک پہنچایا کس نے؟
پی آئی اے کی نجکاری مکمل، عارف حبیب گروپ نے 135 ارب کی بولی جیت لی
پی آئی اے کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے تحت رکھی گئی۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں، خصوصاً ایئر مارشل نور خان کے دور میں، یہ قومی ایئرلائن دنیا کی صفِ اوّل کی ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔
اُس دور میں پی آئی اے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دیگر ممالک کی ایئرلائنز کے لیے بھی رول ماڈل تھی۔ مگر ریاستی ادارے صرف رن ویز اور طیاروں سے نہیں چلتے، انہیں وژن، تسلسل اور پیشہ ورانہ خودمختاری درکار ہوتی ہے—اور یہی چیز آہستہ آہستہ پی آئی اے سے چھین لی گئی۔
پی آئی اے نجکاری میں بڑی پیش رفت
1990 کی دہائی کے بعد پی آئی اے سیاست کا شکار ہو گئی۔ میرٹ کے بجائے سفارش، ضرورت کے بجائے بھرتیاں، نظم کے بجائے یونین دباؤ اور پیشہ ورانہ فیصلوں کے بجائے سیاسی مداخلت—یہ وہ زہر تھا جو قومی ایئرلائن کے جسم میں رفتہ رفتہ پھیلتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارہ مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوتا چلا گیا، بیڑا پرانا ہوتا گیا، سروس کا معیار گرتا گیا اور خسارہ بڑھتا گیا۔ 2020 کے حادثے کے بعد لگنے والی عالمی پابندیاں اگرچہ بعد میں ہٹ گئیں، مگر ادارے کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا، وہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔
آج پی آئی اے کی نجکاری کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عالمی مالیاتی دباؤ، مسلسل خسارے اور ادارے کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نجکاری دراصل ریاستی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ سچ شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ نجکاری بذاتِ خود کوئی گناہ نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے نجکاری سے پہلے اصلاحات کیں؟ کیا ذمہ داروں کا تعین ہوا؟ کیا وہ نظام بدلا گیا جس نے پی آئی اے کو اس مقام تک پہنچایا؟
پی آئی اے کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ادارے دشمن نہیں مارتے، انہیں اندر سے کمزور کیا جاتا ہے۔ اگر کل کسی اور قومی ادارے کو بھی اسی انجام سے بچانا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، طرزِ حکمرانی کا ہے۔ پی آئی اے شاید دوبارہ اڑان بھر لے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کے زوال سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں۔