براڈ پیک پر پھنسے زخمی کوہ پیما مراد سدپارہ انتقال کرگئے
مراد سدپارہ پرتگالی کوہ پیما کے ہمراہ براڈ پیک سے نیچے کی جانب اتر رہے تھے کہ اسی دوران خراب موسمی صورتحال کے باعث اونچائی سے گر کر شدید زخمی ہوگئے تھے، تاہم اب انتقال کرگئے ہیں۔
پاک آرمی نے کوہ پیما مراد سدپارہ کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا گیا تھا، اسکردو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما 11 اگست کو براڈ پیک پر حادثے کا شکار ہوگئے تھے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ریسکیو آپریشن سے متعلق بتایا گیا تھا۔
نائلہ کیانی کی جانب سے فوجی ریسکیو آپریشن کے حوالے سے مدد طلب کی گئی تھی، وہ بتاتی ہیں کہ مراد سدپارہ پرتگالی خاتون کوہ پیما کے گائیڈر کے طور پر موجود تھا، تاہم براڈ پیک پر 5 ہزار میٹر کی بلندی سے پاؤں پھسلنے کے باعث شدید زخمی ہوگئے تھے۔
نائلہ کیانی نے بتایا کہ پرتگالی کوہ پیما نے نیپالی شیرپا اور مراد سدپارہ کی خدمات حاصل کی تھیں، جبکہ ٹیم براڈ پیک سے واپس نیچے کی جانب آ رہی تھی، کہ کیمپ 1 کے قریب خراب موسمی صورتحال کے باعث مراد سدپارہ کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔
11 اگست کو حادثے کے فورا بعد نائلہ کیانی نے فیس بُک پوسٹ کے ذریعے پاک فوج سے مدد کی درخواست کی تھی۔
اپنے فیس بک پوسٹ میں نائلہ کیانی نے لکھا کہ مراد سدپارہ، جو کہ صف اول کے کوہ پیما ہیں اور لیجنڈ ہیں، جنہوں نے کے 2 سے حسن شگری کے جسد خاکی کو نکالنے میں مدد کی، انہیں چوٹی پر حادثہ پیش آیا ہے، فوری امداد کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا پوسٹ میں رواں ماہ اُس ریسکیو مشن کا بھی تذکرہ کیا، جب وہ اور مراد سدپارہ حسن شگری کی تلاش کے لیے موجود تھے، کے 2 پہاڑ پر گزشتہ سال حسن شگری موت سے ہمکنار ہوگئے تھے۔
نائلہ کیانی کی جانب سے مراد سدپارہ کو ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج سے اسکردو سے 4 کوہ پیماؤں کو ’کریمپن پوائنٹ‘ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔
خاتون کوہ پیما کا سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اسکردو سے مراد سدپارہ کی بحفاظت واپسی کے لیے انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں‘۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر کی جانب سے 2 تجربہ کار کوہ پیماؤں کو مراد سدپارہ کو ریسکیو کرنے کے لیے بیس کیمپ بھیجا گیا ہے۔