وزیراعظم شہباز شریف کی جاپانی سرمایہ کاروں کو دعوت
یوتھ ویژن نیوز (قاری عاشق حسین سے ) پاکستان سولر انرجی، پینے کے صاف پانی، گندے پانی اور آلائشوں کی ترسیل کے شعبوں میں جاپانی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف
پاکستان سولر، ونڈ اور ہائیڈل جیسے قابل تجدید توانائی کے ڈرائع سے استفادہ کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ تیل، گیس اور دیگر مہنگے ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والا خطیر زرمبادلہ ہماری معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ وزیر اعظم
یہ بھی پڑھیں: ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سےغائب ہوگئی
پاکستان شمسی توانائی سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے نہ صرف ایک موثر سرمایہ کاری پلان تیار کر لیا ہے بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی پری بڈ کانفرنس (Pre-Bid Conference) بھی منعقد کی جا چکی ہے۔ اس سولرائزیشن پراجیکٹ کے تحت سولر پارکس لگاۓ جائیں گے، اور سرکاری عمارتوں، کاروباری مراکز اور ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کر کے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاۓ گا۔
وزیر اعظم نے جاپانی کمپنیوں کو اس اہم منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوۓ انہیں ہر طرح کی سہولت اور آسانی کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع ہوگی
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) موڈ کے تحت کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی ٹریٹمنٹ اور آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے منصوبوں میں جاپانی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا بھی خواہاں ہے۔
وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار جاپان کے پارلیمانی نائب وزیر براۓ معیشت، تجارت اور انڈسٹری عزت مآب جناب ستومی ریوجی (Satomi Ryuji) کی قیادت میں پاکستان میں موجود جاپانی کمپنیوں کے وفد سے گفتگو کے دوران کیا۔ملاقات میں پاکستان میں جاپان کے سفیر عزت مآب جناب وادا متسوہیرو(Wada Mitsuhiro) بھی موجود تھے۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم نے پاکستان میں حالیہ تاریخی سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر جاپان کی حکومت اور عوام کی جانب سے ہمدردی کے جذبات اور 70 لاکھ ڈالر کی مالی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشرکےامراض میں اضافہ وجوہات کیا ہیں؟جانئیے
وزیر اعظم نے اس موقع پر پاکستان میں کاروبار کرنے والی جاپانی کمپنیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے حکام کی کمیٹی تشکیل دینے کے بھی احکامات جاری کیے۔
ملاقات میں وزیر براۓ سرمایہ کاری بورڈ (BOI) چوہدری سالک حسین، وزیرتجارت سیدنوید قمر، وزیر براۓ صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود، وزیر مملکت براۓ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔