نیاپاکستان صحت کارڈ کا جنوری سے اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور
لاہور۔ (مبشر بلوچ سے ):معاونِ خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ نے پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام پر عملدرآمد کی منظوری دیتے ہوئے نیا پاکستان صحت کارڈ کا جنوری سے اجرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیا پاکستان صحت کارڈ کا اجرا جنوری کے آغاز میں لاہور ڈویژن سے کیا جائے گا اور 31 مارچ تک اس کا دائرہ کار راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ اور سرگودھا ڈویژن تک بڑھا دیا جائے گا- انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے نیا پاکستان صحت کارڈ پر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور خاندان کے سربراہ کا نام کنندہ کرنے، پنجاب ہیلتھ اینشیٹو مینجمنٹ کمپنی اور سٹیٹ لائف انشورنس کے درمیان معاہدے اور نیا پاکستان صحت کارڈ کے فارمیٹ اور ڈیزائن کی بھی منظوری دے دی۔
حسان خاور نے بتایا کہ تاریخ ساز یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام پر 3 برس میں تقریبا 400 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ اس کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک سالانہ مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی۔ اس موقع پر پنجاب کابینہ نے وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام پر عملدرآمد کرنے پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے لئے ہسپتالوں کے علیحدہ پرسنل لیجر اکانٹ (PLA) کھولنے اور رسید شیئر ڈسٹری بیوشن فارمولے کی بھی منظوری دی۔ ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے بتایا کہ پنجاب کابینہ نے این او سیز کے اجرا کو آسان بنانے کے لئے زیرو ٹائم ٹو سٹارٹ اپ پالیسی 2021 کے مسودے کی منظوری دے دی۔
اس پالیسی کے تحت صوبے میں کاروبار اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے این اوسی رجیم کو سہل بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کابینہ نے ویسٹ پاکستان بورڈ آف ریونیو (کنڈکٹ آف اپیلز اینڈ ریویزنز) رولز 1959میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے اس کا نام پنجاب بورڈ آف ریونیو (کنڈکٹ آف اپیلز اینڈ ریویزنز) میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔
ترامیم کی منظوری سے بورڈ آف ریونیو میں کیسوں کافیصلہ 180 دن میں کرنا لازم ہو گا۔ علاوہ ازیں ویسٹ پاکستان بورڈ آف ریونیو (کنڈکٹ آف میٹنگز) رولز 1959 میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن میں کارپوریٹ گورننس اصلاحات متعارف کرانے کیلئے پنجاب سیڈ کارپوریشن ایکٹ 1976 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ ترامیم کے بعد کارپوریشن کے بورڈ ممبرز کی تعداد 9 سے بڑھا کر 16 کر دی جائے گی۔
پنجاب موٹر وہیکلز ٹیکسیشن رولز 1959 میں ترامیم کی منظوری دی گئی جس سے پنجاب میں رجسٹرڈ گاڑیاں پنجاب کے اندر ہی ٹوکن ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسل رجسٹریشن مارکس سکیم کے تحت لاہور ہائی کورٹ کی سرکاری گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے ایل ایچ سی سیریز الاٹ کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
پنجاب موٹر وہیکلز رولز 1969 کے سیکنڈ شیڈول کے رول 42 میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔ اس ترمیم سے پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔ گاڑیو ں کے پر کشش نمبروں کی الاٹمنٹ کے لئے ای آکشن پالیسی کو مزید موثر بنانے کی منظوری دی گئی۔
پرکشش نمبروں کی الاٹمنٹ کے لئے فہرست میں مزید نمبروں کا اضافہ کیا جائے گا۔ حسان خاور نے بتایا کہ پنجاب کابینہ اجلاس میں گندم ریلیز پالیسی 2021-22، پرائس کنٹرول کرنے اور منافع خوری و ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لئے 1977 کے ایکٹ کو اختیار کرنے،
پرائس کنٹرول اینڈ پریونشن آف پرافٹٹرینگ اینڈ ہورڈنگ ایکٹ 2021 کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب کابینہ نے سکندریہ کالونی، سوڈیوال لاہور میں 34 کنال اراضی پر گرلز کالج کے قیام کی منظوری دی۔ گرلز کالج کے قیام کے منصوبے پر تقریبا 80 ملین روپے لاگت آئے گی۔ اجلاس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڑ کے والد کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔