مکران کے ساحل پر آٹھ فش لینڈنگ جیٹیاں تیار،کام شروع
اسلام آباد:(واصب ابراہیم غوری سے ) سی پیک منصوبوں کے تحت بلوچستان میں ماہی گیری کے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے لئے آٹھ جیٹیزنے کام شرو ع کردیا ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے رپورٹس دینے والے ادارے ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی 720 کلومیٹر کی مکران ساحلی پٹی پرلنگر انداز ہونے کی آٹھ بڑی سائٹس اور 25 سے زیادہ ماہی گیروں کی بستیاں ہیں۔بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ساتھ ماہی گیری کے حوالے سے بڑے مقامات سونمیانی،اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی میں واقع ہیں۔ تقریبا 40ہزار ماہی گیر اس ساحل پر کام کر کے اپنی روزگار کماتے ہیں۔بلوچستان کے ساحل سے مچھلی کی سالانہ پیداوار 153,1555 میٹرک ٹن ہے جو کہ ملک کی کل مچھلی کی پیداوار کا 34 فیصد ہے۔ مچھلیوں کا تقریبا 80% مشرق وسطی، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، جس سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔مالی سال 2019-20 میں سمندر اور اندرون ملک دریاؤں اور جھیلوں سے مچھلی کی کل پیداوار کا تخمینہ 701,726 میٹرک ٹن تھا جس میں سے 474,025 میٹرک ٹن سمندری پانیوں اور بقیہ اندرون ملک سے تھا۔بلوچستان میں، تجارتی پیمانے پر سمندری مچھلی میں ڈیمرل مچھلی کی 250 اقسام، 15 مختلف قسم کے کیکڑے، 20 بڑی، 15 درمیانی اور 50 چھوٹی پیلاجک مچھلی کی انواع، 5 لابسٹر اور 12 کٹل فش/سکویڈ/آکٹوپس کی انواع شامل ہیں۔فی الحال، ساحلی پٹی کے ساتھ صرف 10 فش پروسیسنگ پلانٹس ہیں، جو پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے چلائے جارہے ہیں اور تقریبا 23,000 میٹرک ٹن مچھلی کو بغیر کسی ویلیو ایڈیشن کے پروسیس کیا جاتا ہے۔سمندری حدود کے خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے تین زون ہیں جن میں سندھ اور بلوچستان، وفاقی حکومت کی طرف سے مقامی ماہی گیروں کی مدد کے لیے بنایا گیا بفر زون اور وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں 20 سے 200 ناٹیکل میل پر مشتمل زون تھری ہے۔سی پیک منصوبوں نے اس شعبے کے لیے مواقع کی راہیں کھول دی ہیں، جن میں روزگار سے لے کر ممکنہ اقتصادی عروج تک شامل ہیں۔ سی پیک منصوبوں کے تحت آٹھ فش لینڈنگ جیٹیوں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے جس کی تخمینہ لاگت 150 ملین امریکی ڈالر ہے۔