منی لانڈرنگ کیس:شہباز شریف،حمزہ شہبازبری

یوتھ ویژن نیوز(واصب غوری سے )عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کیس میں بری کردیا
لاہور کی اسپیشل سنٹرل عدالت نےالعربیہ اور رمضان شوگر ملز کے حوالے سے کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بری کردیا۔ عدالت نے بریت کی دائر درخواستوں کو منظور کرلیا۔قبل ازیں عدالت نے بریت کی درخواستوں پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔اسپیشل سنٹرل عدالت کے جج اعجاز حسن اعوان نے شہبازشریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر 16 ملزمان کے خلاف 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے بدھ کے روز فریقین کے وکلا کو بریت کی درخواستوں پر حتمی بحث کے لئے طلب کیا تھا۔ دوران سماعت شہباز شریف و حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے حتمی بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکا ﺅنٹ میں کوئی رقم نہیں آئی۔ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر کیس بنایا،قانون کے مطابق پراسیکیوٹر کو اپنا کیس ثابت کرنا ہے۔ وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ رشوت کے الزام میں پراسیکیوشن کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا۔اپنے کیریئر میں ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں پراسیکیوشن بغیر ثبوت کے چل رہا ہو۔دوران سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے کہا کہ ملزم مسرور شہباز شریف کے اکا ﺅنٹ آپریٹ کرتا رہا۔ عدالت نے ملک مقصود کے اکا ﺅنٹس کی تفصیلات بارے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ ملک مقصود کے کتنے اکا ﺅنٹ ہیں اور اس میں کتنی رقوم آئیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملک مقصود کے 8 اکانٹ ہیں۔کسی بے نامی دار نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکا ﺅنٹ میں پیسے جمع نہیں کرائے۔ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکا ﺅنٹ میں براہ راست پیسے جمع نہیں کرائے گئے نہ ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکا ﺅنٹس سے براہ راست پیسے نکلوائے گئے۔ جس پر عدالت نے قرار دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے کسی اکا ﺅنٹ میں رقم جمع کرائی اور نہ ہی نکلوائی۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کسی گواہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا نام تک نہیں لیا،اگر کوئی ایسا بیان آ جائے تو میں عدالت سے باہر چلا جا ﺅں گا۔عدالت کے فاضل جج نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پڑھا ہے کہ تمام شہادتوں کو جس میں کوئی کہتا ہے فلاں کاروبار کرتا ہے اور کوئی کہتا ہے کچھ کاروبار کرتا ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔بعد ازاں عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کو کیس سے بری کردیا۔واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں