زرداری اور نوازشریف کا وقت ختم ہوچکا، کچھ بھی کرلیں شکست ہوگی،عمران خان
یوتھ ویژن نیوز( واصب غوری سے ) سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے تیاری مکمل ہے اور اس بار لانگ مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں یہ ریفرنڈم تھا، تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف اور پی ٹی آئی ایک طرف تھی، ہر جگہ ہماری فتح تھی، سندھ کا الیکشن کمشنر صوبائی حکومت کے پے رول پر ہے جس کی وجہ سے وہاں بھرپور دھاندلی کروائی گئی، کراچی این اے 237 میں پیپلز پارٹی نے دھاندلی کی وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
انہوں ںے کہا کہ قومی اس حکومت اور اس اسمبلی کو نہیں مانتی اس لیے اس نے انتخابات میں اپنا فیصلہ سنادیا، یہ حکومت ہماری خود مختاری کا فیصلہ کرکے بیٹھی ہوئی ہے، اس حکومت کی قیادت کا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہوا ہے، کچھ مسئلہ ہو تو یہ لوگ باہر چلے جاتے ہیں اور این آر او لے کر واپس آجاتے ہیں۔
لانگ مارچ
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اب زیادہ وقت نہیں، حکومت کو چند روز کا ٹائم دے رہا ہوں کہ انتخابات کا اعلان کردیں، اگر الیکشن کا اعلان نہیں کیا تو رواں ماہ کسی بھی وقت لانگ مارچ کا اعلان کرسکتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میری گزشتہ چھ ماہ کی جدوجہد آئینی حدود میں رہی ہے، لانگ مارچ میں پتا چل جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہے، سری لنکا کا حال سب کے سامنے ہے، وہاں ڈھائی کروڑ افراد تھے جو سڑکوں پر آئے یہاں بائیس کروڑ عوام ہے جو سڑکوں پر آگئی تو کیا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے تیاری مکمل ہے اور اس بار مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا، نوازشریف انتخابات سے ڈرا ہوا ہے، وہ تاخیر کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ پی ٹی آئی کے سپورٹر کم ہوں، انہیں خوف ہے کہ ساری جماعتیں مل کر بھی ہار گئیں تو کیا ہوگا، لیکن آصف زرداری اور نوازشریف کا وقت اب ختم ہوچکا ہے وہ کچھ بھی کرلیں انہیں شکست ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ مذاکرات بھی رہے ہیں اور نہیں بھی، بیک ڈور مذاکرات ہوئے لیکن چیزیں کلیئر نہیں ہیں۔
ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے اسے بچانے کا صرف ایک حل ہے شفاف الیکشن، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معیشت ٹھیک نہیں ہوگی، وہ لوگ اسحاق ڈار لائے ہیں جو کہ خود ایک مجرم ہے جس نے حدیبیہ پیپرز مل کے کیس میں خود اعتراف کیا تھا کہ میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے قرضے ری شیڈول کرنے کا کہا، اس کا مطلب ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جارہے ہیں اور قرضے ادا نہیں کرسکتے، اگر ہم دیوالیہ ہوگئے تو ہمیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی، یہ ہماری نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے، میں مارچ اسی لیے کررہا ہوں کہ شاید کسی کو عقل آجائے۔
عمران خان کی زیر صدارت اجلاس
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر قائدین کا اہم ترین اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی تاریخی کامیابی پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔
اجلاس میں لانگ مارچ کی تاریخ پر حتمی مشاورت ہوئی، ضمنی انتخابات کے نتائج کی ابتدائی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور عمران خان کی جانب سے حلقوں کی سطح پر عوام کو انتخاب کیلئے متحرک کرنے پر کارکنان اور ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس میں امریکی صدر جوبائیڈن کے اشتعال انگیز بیان اور امپورٹڈ حکومت کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے ضمن میں امریکی صدر کے بیان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں سینٹر اعظم سواتی پر زیرحراست تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں این اے 237 کراچی میں پیپلزپارٹی کی غنڈہ گردی اور الیکشن کمیشن کے مکمل سپورٹ کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں حقیقی آزادی کی تحریک کے حتمی مرحلے کی منصوبہ بندی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پی ٹی آئی کی ضمنی انتخابات میں فتح
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات نے پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان قومی اسمبلی کے سات حلقوں میں واحد امیدوار کے طور پر 6 نشستوں پر کامیاب ہوئے۔
عمران خان نے جن نشستوں پر کامیابی حاصل کی ان میں این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کورنگی، کراچی شامل ہے۔
این اے 157 ملتان کی نشست پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے علی موسیٰ گیلانی 107327 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
کراچی کے حلقہ این اے 237 ملیر سے پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 32 ہزار 567 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
اسی طرح پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی نے دو اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک نشست حاصل کی ہے۔