روس نے یوکرین کا جنگی بحری جہازتباہ کر دیا

ماسکو (علی رضا غوری سے ) – روس کے یوکرین میں حملے جاری ہیں، جنگی بحری جہاز بھی تباہ کردیا گیا۔ روس نے یوکرین میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کی بھی تصدیق کردی، جبکہ یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ستمبر تک خیرسن کو روسی قبضے سے آزاد کرا لیں گے۔

روسی وزیرخارجہ نے مصر کے دورے کے دوران دھماکا خیز بیان دیدیا، مصری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ روس یوکرین میں عوام اور تاریخ دشمن حکومت تبدیل کرنے منصوبے پر کا م کررہا ہے۔ ہم یقینی طور پر یوکرائنی عوام کی مدد کریں گے، روسی اور یوکرائنی عوام مستقبل میں ایک ساتھ رہیں گے۔

انہوں نے مصر کو سستے داموں روسی گندم فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا روس عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا ذمہ دار نہیں۔

ادھر روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووانے کہا کہ اوڈیسا بندر گاہ پر فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، کروز میزائلوں سے یوکرین کا جنگی بحری جہاز بھی تباہ کردیا۔ یوکرینی فوجی اسنیک آئی لینڈ پر حملہ کرنے والے تھے۔

یوکرین کے جنوب اور مشرق میں روسی گولہ باری سے دوشہری ہلاک ہو گئے، برطانوی انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق روس کی توجہ ڈونیٹسک علاقے میں باخموت شہر پر مرکوز ہے۔ روس ڈونباس پر حملے میں کم سے کم پیش رفت کر رہا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق بحیرہ اسود کی بندر گاہ میکولائیو میں روسی شیلنگ سے پانچ شہری زخمی ہوئے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے یوکرین نے بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اجناس کی برآمد شروع کردی۔ روس نے اوڈیسا پر دوبارہ حملہ کیا تو گندم کی برآمد متاثر ہوگی۔ یوکرین اگلے 9 ماہ میں 60 ملین ٹن گندم برآمد کرسکتا ہے، روسی حملہ کی صورت میں گندم کی برآمد میں دو سال لگ سکتے ہیں۔ زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرینی افواج کی مقبوضہ علاقے خیرسن کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ روس کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے یہ خطہ یقینی طور پر ستمبر تک آزاد ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں