اورکزئی آپریشن میں شہید فوجی افسران کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور فیلڈمارشل کی شرکت

اورکزئی آپریشن میں شہید فوجی افسران کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور فیلڈمارشل کی شرکت

world latest news

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم غوری سے) اورکزئی آپریشن میں شہید فوجی افسران کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور فیلڈمارشل کی شرکت

اورکزئی میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ آج چکلالہ گیریژن، راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر فضاء غمگین مگر فخر سے معمور تھی، جہاں ملک کے ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

نماز جنازہ میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے علاوہ وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری و سول حکام، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشکبار اور دل شہداء کی عظمت پر مطمئن نظر آیا۔ دونوں افسران ان گیارہ بہادر سپوتوں میں شامل تھے جنہوں نے ضلع اورکزئی میں بھارتی سپانسرڈ دہشت گرد گروہ “فتنہ الخوارج” کے خلاف کارروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف مضبوط، متحد اور پختہ عزم رکھتی ہے۔ “شہداء نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ہماری سرزمین پر کسی دہشت گرد کو پناہ نہیں ملے گی۔ ہم امن، استحکام اور خوشحالی کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، اور اس جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ “یہ قربانیاں اس قوم کی آزادی اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔” وزیراعظم نے فوج کے حوصلے اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر ملک کا دفاع کیا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

دوسری جانب، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اسی جوش و جذبے سے جاری رہیں گی تاکہ وطنِ عزیز میں امن و سکون قائم رہے۔

نماز جنازہ کے بعد دونوں افسران کو ان کے آبائی علاقوں میں فوجی اعزازات کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ اس موقع پر شہداء کے اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ اپنے بیٹوں کی قربانی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ “انہوں نے اپنی جان اس ملک کے امن کے لیے قربان کی، اور ہم ان کے مشن کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔”

سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیٹے اپنی جانیں قربان کر کے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ قوم ان کے جذبے کو سلام پیش کرتی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے نہ صرف ملک کی سرحدوں بلکہ داخلی امن کے محافظ بھی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ان قربانیوں نے پاکستان کو مزید مضبوط اور متحد قوم بنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں