افغانستان، پاکستان اور عالمی طاقتوں کا نیا کھیل ! بگرام ایئر بیس خطے کی جیوپولیٹیکل کشیدگی کا مرکز بن گیا

(تحریر : سید نعمان شاہ ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس یونیورسٹی آف اوکاڑہ)

تعارف

خطہ جنوبی ایشیا ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور رقابت کا مرکز بن چکا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بگرام ایئر بیس کی اسٹریٹیجک اہمیت، اور چین و امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشمکش — یہ سب اس خطے کو عالمی سیاست کے نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں۔

بگرام ایئر بیس — ایک علامتی مرکز

جس روز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس سے امریکی افواج کی واپسی کی دھمکی دی اور افغان حکومت کو “سنگین نتائج” کی وارننگ دی، اسی دن سے واضح ہو گیا تھا کہ یہ معاملہ محض عسکری نہیں بلکہ ایک بڑے جیوپولیٹیکل کھیل کی شروعات ہے۔ جلد ہی وہ خدشات درست ثابت ہوئے، اور پاک۔افغان تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا۔

بگرام ایئر بیس کی اہمیت صرف ایک فوجی اڈے تک محدود نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے امریکہ نے دہائیوں تک وسطی اور جنوبی ایشیا میں اپنی حکمت عملی تشکیل دی۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے چین کے جوہری مراکز کے قریب لاتی ہے، جو بیجنگ کے لیے ایک واضح تزویراتی چیلنج ہے۔

تاریخی پس منظر: مفادات کی جنگ

یہ صورتحال نئی نہیں۔ جب روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی، تو اسلام آباد نے واشنگٹن کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس وقت افغان جنگجوؤں کو “مجاہدین” کہا گیا کیونکہ وہ امریکی مفادات کے لیے لڑ رہے تھے۔

لیکن 9/11 کے بعد جب انہی گروہوں کو “دہشت گرد” قرار دیا گیا، پاکستان پھر بھی امریکی اتحاد کا حصہ رہا۔ 2021 میں امریکی انخلا اور طالبان کی واپسی کے ساتھ ایک نیا باب شروع ہوا، جہاں وہی عناصر دوبارہ “مذاکراتی اتحادی” کے طور پر سامنے آئے۔ یہ تضاد دراصل عالمی پالیسیوں کے بدلتے مفادات کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی پالیسی — دباؤ اور مصلحتوں کے درمیان

پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی ہمیشہ عالمی دباؤ اور بین الاقوامی مفادات سے متاثر رہی ہے۔ کبھی امریکہ کی ترجیحات نے اسے مغربی بلاک کے قریب کیا، تو کبھی چین کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری نے نئی سمت دی۔

آج پاکستان ایک نازک توازن میں ہے — ایک طرف چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” اور دوسری طرف مغربی دنیا کے اسٹریٹیجک خدشات۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کو اپنی پالیسی نہایت احتیاط سے تشکیل دینی پڑتی ہے تاکہ وہ عالمی رقابت کے بیچ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

معدنی وسائل اور خطے کی سیاست

افغانستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ لیتیئم، کوبالٹ، تانبا، کرومائیٹ اور دیگر نایاب معدنیات عالمی معیشت کے لیے مستقبل کی توانائی سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی سیاست، معاشیات اور عسکری مفادات آپس میں گُتھ جاتے ہیں۔

یہی معدنی وسائل دراصل اس خطے کی “خاموش جنگ” کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بگرام ایئر بیس، چین کی اقتصادی راہداری (CPEC) اور وسطی ایشیا کے قدرتی ذخائر — سب ایک ہی تزویراتی دائرے میں آتے ہیں۔

امریکہ، چین اور خطے کا مستقبل

امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی حکمتِ عملی کی رقابت اب معاشی میدان سے نکل کر عسکری اور سفارتی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بگرام ایئر بیس اس رقابت کا “گراؤنڈ زیرو” بنتا جا رہا ہے۔

امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے، جبکہ چین چاہتا ہے کہ اس کی اقتصادی راہداری کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس کشمکش میں غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے عوامی اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دیں۔

پائیدار حل — مذاکرات اور مشترکہ ترقی

خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ یہ مسئلہ صرف سیاسی یا سیکیورٹی زاویے سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اور تاریخی تناظر میں سمجھا جائے۔ پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین — سب کو مشترکہ مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

اگر معدنی وسائل کی مشترکہ ترقی، علاقائی تجارت، اور اقتصادی توازن کو ترجیح دی جائے، تو نہ صرف دہشت گردی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عوامی خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ آخرکار، بگرام ایئر بیس صرف ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن، مفادات کی جنگ اور عالمی پالیسیوں کے تصادم کی علامت ہے۔ جنوبی ایشیا کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب خطے کے ممالک عالمی طاقتوں کے بجائے اپنے عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیں۔ پائیدار امن کی کنجی بین الاقوامی تعاون، باہمی احترام، اور غیر جانبدارانہ پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں