ٹرمپ نے ایران جنگ سے جلد نکلنے کا عندیہ دے دیا، 2 سے 3 ہفتوں میں بڑی پیشرفت متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران جنگ سے متعلق 2 سے 3 ہفتوں میں پیشرفت کی ٹائم لائن بیان کر رہے ہیں۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے جاری جنگی صورتحال سے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں نکل سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسی ممکنہ سفارتی ڈیل کا امکان بھی موجود ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ ضروری نہیں، تاہم سفارتی پیشرفت صورتحال کو جلد معمول پر لا سکتی ہے۔

امریکی کارروائی کا مقصد کیا تھا؟

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی کارروائی کا مقصد ایران میں “رجیم چینج” نہیں تھا بلکہ بنیادی ہدف یہ تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق امریکی عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کارروائی کا مقصد ایک ممکنہ ایٹمی خطرے کو روکنا تھا، نہ کہ کسی سیاسی نظام کو تبدیل کرنا۔

آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی پر بیان

صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرانس یا دیگر ممالک کو تیل اور گیس درکار ہے تو وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خود رسائی حاصل کریں اور اپنی حفاظت بھی خود یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب ہر ملک کے بحری جہازوں کی حفاظت کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، جبکہ چین کو بھی اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنا ہوں گے۔

چین اور عالمی بحری راستوں پر نئی بحث

ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی محدود کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی سپلائی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی داخلی سیاست پر بھی تنقید

اپنی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اپوزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے مخالفین ان پر “بادشاہ” ہونے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ وہ خود گزشتہ برسوں میں بارڈر سکیورٹی اور داخلی جرائم کے مسائل کو نظر انداز کرتے رہے۔

عالمی منظرنامہ اور ممکنہ سفارتی موڑ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا واقعی 2 سے 3 ہفتوں میں ایران تنازع سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے سفارتی موڑ کی علامت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں