فرقہ وارانہ تشدد اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پر مبنی ایک علامتی تصویر۔

کالم نگار : اُمِ ہانی

کالم نگار اُمِ ہانی

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہشت گردی کا خطرہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ریاستی سالمیت اور سماجی تانے بانے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی پاکستان سیکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق، ملک بھر میں دہشت گرد حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں 699 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ جیسے گروہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں تیز کر چکے ہیں۔

2024 سے 2025 تک پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کی رپورٹ

حالیہ دنوں میں اسلام آباد کی مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والا حملہ محض ایک دہشت گردی کی واردات نہیں، بلکہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کی چنگاری کو دوبارہ ہوا دینے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ جب دہشت گردی وفاقی دارالحکومت کے قلب تک آن پہنچے، تو یہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ داعش جیسے شدت پسند گروہ، جو اپنے نظریات میں ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ انتہا پسند ہیں، اب مساجد اور امام بارگاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کو دوبارہ 90 کی دہائی کے اس سیاہ دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری روز کا معمول بن چکی تھی۔

پاکستان نے ماضی میں فرقہ واریت کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اگر آج ان انتہا پسندوں کو جڑ سے ختم نہ کیا گیا، تو یہ گروہ ملک کو "سوفٹ ٹارگٹ” سمجھ کر اپنے فرسودہ نظریات نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کا استحکام اب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم فرقہ وارانہ کشیدگی کو کس طرح روکتے ہیں۔

مغربی سرحدوں کی صورتحال اور عوامی امنگیں: خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہیں۔ وہاں کے لوگ اب گولیوں کی تھرتھراہٹ نہیں بلکہ امن اور ترقی چاہتے ہیں۔ ان صوبوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا حل صرف عسکری آپریشنز میں نہیں، بلکہ گڈ گورننس اور عوامی خدمات کے اداروں (Public Service Institutes) کی مضبوطی میں پنہاں ہے۔ جب تک عوام کو بنیادی حقوق، تعلیم، صحت اور انصاف میسر نہیں آئے گا، دہشت گرد عناصر ان محرومیوں کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

وفاق اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر مرکوز کریں۔ بہتر ایڈمنسٹریشن اور شفاف نظام ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دی جا سکتی ہے۔ پاکستان دوبارہ بدامنی کے دور میں واپس نہیں جانا چاہتا، اور اس کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر انتہا پسندی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں