ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کی جانب سے سال 2025 میں ایک لاکھ چار ہزار سے زائد ایمرجنسیز پر مؤثر رسپانس

ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کی 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

رپورٹ از: انجینئر احمد کمال، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر، ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان

یوتھ ویژن نیوز : پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے سال 2025 کے دوران ضلع بھر میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 58 ہزار سے زائد کالز موصول کیں، جن میں تصدیق کے بعد 1 لاکھ 4 ہزار ایمرجنسی کالز پر مؤثر اور بروقت رسپانس فراہم کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور کوہِ سلیمان کے علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق طبی ایمرجنسیز کی تعداد سب سے زیادہ رہی، جن کی مجموعی تعداد 77 ہزار سے زائد تھی، جبکہ 10 ہزار سے زیادہ روڈ ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ آتشزدگی، جرائم، عمارتوں کے منہدم ہونے، ڈوبنے اور دیگر متفرق ایمرجنسیز پر بھی ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کی ٹیموں نے خدمات انجام دیں، جن میں مختلف نوعیت کے حادثات اور طبی کیسز شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے تحصیل ڈیرہ غازی خان، کوٹ چھٹہ اور مخصوص علاقوں میں اوسطاً 9 منٹ سے کچھ زائد رسپانس ٹائم برقرار رکھا، تاہم بعض پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں جغرافیائی مشکلات کے باعث رسپانس ٹائم نسبتاً زیادہ رہا۔

سال 2025 کے دوران 64 ہزار سے زائد متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ 40 ہزار سے زیادہ مریضوں کو تشویشناک حالت کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مجموعی طور پر 1 لاکھ 7 ہزار سے زائد مریضوں کو ریسکیو کر کے پیشہ ورانہ امداد فراہم کی گئی، جبکہ مختلف ایمرجنسی کیٹیگریز میں تقریباً دو ہزار اموات رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات، سیفٹی سرویز اور عوامی آگاہی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی۔ جدید ایمرجنسی مینجمنٹ ڈسپیچ سسٹم کے ذریعے حادثات کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی اور ان کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی گئیں۔

مزید برآں، ضلع بھر میں حفاظتی تربیتی پروگرامز کے تحت ہزاروں شہریوں کو فرسٹ ایڈ، سی پی آر اور دیگر جان بچانے والی مہارتوں کی تربیت دی گئی، جبکہ کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں تاکہ بڑے حادثات اور آفات کے دوران مقامی سطح پر مدد کو مؤثر بنایا جا سکے۔

رپورٹ میں کمرشل علاقوں اور بلند عمارتوں میں فائر سیفٹی معیارات پر عملدرآمد، نجی ایمبولینسز کی رجسٹریشن اور ان کے عملے کی تربیت کے اقدامات کو بھی شامل کیا گیا، جو ضلع میں ایمرجنسی مینجمنٹ اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں