وزیراعظم کا دورہِ امام بارگاہ: شہدا کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 30 لاکھ روپے امداد کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں متاثرہ امام بارگاہ کا دورہ کیا۔ شہدا کے خاندانوں کو 50 لاکھ اور زخمیوں کو 30 لاکھ روپے دینے کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ حکومتِ پاکستان اس مشکل گھڑی میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
شہید عون عباس کی بہادری کو سلام: وزیراعظم کا دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کا اعادہ
وزیراعظم نے متاثرین کے لیے بڑے امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے لواحقین کو فی کس 50 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 30 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ان کا واحد مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا ہے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر نوجوان عون عباس کی بہادری اور قربانی کا تذکرہ کیا، جس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بڑے نقصان سے بچایا۔ وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ عون عباس کی بہادری کو تاریخ میں سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت: مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے، وزیراعظم
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کی ناپاک سازشیں کر رہا ہے، جسے قوم کے اتحاد سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علما کرام نے اس بزدلانہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام شہری ایک پیج پر ہیں۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ افواجِ پاکستان اور دیگر تمام ادارے ملک کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور امدادی رقوم کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔