پیٹرول مزید مہنگا ہونے کی خبر غلط، وزارت خزانہ کی وضاحت سامنے آگئی

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق خبروں کے پس منظر میں پیٹرول پمپ اور گاڑیوں کی قطار کی نمائندہ تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) اسلام آباد میں وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان سے ضرور آگاہ کیا تھا تاہم انہوں نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بارے میں کوئی اعلان یا بیان نہیں دیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق بعض ٹی وی چینلز پر وزیر خزانہ کے حوالے سے چلنے والی خبریں درست نہیں ہیں اور ان کی وضاحت ضروری تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر قیمت میں 5 روپے اضافہ نوٹیفکیشن جاری

دوسری جانب سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پروگراموں میں خام تیل کی قیمتوں پر گفتگو کرنا آسان ہے لیکن اصل معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ خام تیل کو ریفائنری کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بعد ہی اسے پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ کو ڈیزل کی قیمت اٹھاسی ڈالر فی بیرل تھی جو چھ مارچ تک بڑھ کر ایک سو انچاس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اسی طرح جو کارگو پہلے تقریباً سات لاکھ ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا وہ اب ستر لاکھ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل مارا اور حکومت نے پاکستان میں پیٹرول کا میزائل چلا دیا جس پر وزیر پٹرولیم نے جواب دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ حکومتی مشاورت سے کیا گیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آئندہ خریداری زیادہ قیمت پر کرنا پڑے گی کیونکہ جو ذخائر پہلے ستر ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدے گئے تھے وہ اب تقریباً ایک سو بیس ڈالر فی بیرل کی سطح پر دستیاب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں