پاک بھارت کرکٹ ٹکراؤ اور آئی سی سی مذاکرات: پی سی بی نے بنگلہ دیش کے لیے بڑے مطالبات کر دیے

لاہور میں آئی سی سی، پی سی بی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے حکام کے درمیان اہم مذاکرات کی تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کھیلنے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ پی سی بی نے بنگلہ دیش کے لیے آئی سی سی کے سامنے 3 بڑی شرائط رکھ دیں۔

لاہور میں منعقدہ آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کی انتہائی اہم اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان نے روایتی حریف بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کے حوالے سے اپنے ذاتی مفادات کے بجائے خطے کی کرکٹ اور خاص طور پر بنگلہ دیش کے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔ پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی رعایت کا طلبگار نہیں، لیکن بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر خاموش رہنا کھیل کی روح کے منافی ہوگا۔

مذاکرات کے دوران پی سی بی نے آئی سی سی کے سامنے تین بڑی اور اہم شرائط رکھی ہیں۔ پہلی شرط کے طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کی آمدنی سے اس کا جائز اور پورا حصہ دیا جائے تاکہ وہاں کرکٹ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کے باوجود ایونٹ کی شرکت فیس (Participation Fee) ادا کی جانی چاہیے۔ یہ مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بورڈ ممبر کو یکطرفہ فیصلوں کی بنیاد پر مالی نقصان نہ پہنچے۔

دوسری جانب، پاکستان نے بھارت کے حوالے سے آئی سی سی پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی ٹیم کے ستمبر میں طے شدہ دورہ بنگلہ دیش کی مکمل ضمانت دے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کو سیاست کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے حکومتی فیصلوں کے بجائے آئی سی سی کی پاسداری ضروری ہے۔ پی سی بی نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو "گیم آف جنٹلمین” کی روایات کا پابند کیا جائے تاکہ بین الاقوامی کرکٹ میں باہمی احترام برقرار رہے۔

تیسری اور سب سے اہم شرط کے تحت، پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں بنگلہ دیش کو کسی بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی دی جائے۔ پی سی بی کے مطابق، بنگلہ دیش اب عالمی معیار کی سہولیات اور شائقین کی بڑی تعداد رکھتا ہے، جو کسی بھی میگا ایونٹ کو کامیاب بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد کرکٹ کے میدانوں میں غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا اور تمام بورڈز کے درمیان برابری کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ آئی سی سی نے ان مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد پاک بھارت کرکٹ تعلقات میں جمی برف پگھلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں