سینیٹر پلوشہ خان نے آن لائن کردار کشی کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع کرلیا
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے آن لائن کردار کشی اور منظم ڈیجیٹل مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) میں باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا، ہتک آمیز اور بدنیتی پر مبنی مواد منظم انداز میں پھیلایا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیپ فیکس، ایڈیٹ شدہ ویڈیوز اور جعلی مواد کے ذریعے سینیٹر پلوشہ خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جبکہ نفرت انگیز مہم، صنفی زبان، دھمکیوں اور تضحیک آمیز بیانیے کا بھی سہارا لیا گیا، سینیٹر کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں جعلی اکاؤنٹس اور بوٹ نیٹ ورکس کے ذریعے بڑھائی گئیں اور مخصوص ہیش ٹیگز کے تحت منفی مواد کو ٹرینڈ کروایا گیا۔
سینیٹر پلوشہ خان نے درخواست میں مزید کہا کہ یہ آن لائن حملے ان کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ بلکہ پارلیمانی کردار کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، انہوں نے پیکا ایکٹ کے تحت ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کی ہے۔
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا تھا کہ اگر کسی نے ان کی کردار کشی کی کوشش کی تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھراؤ نہیں کیا جاتا، جبکہ سینیٹر نے کمیٹی چیئرمین پرویز رشید سے رولنگ نہ ملنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا، تاحال این سی سی آئی اے کی جانب سے اس درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔