مشرق وسطیٰ تنازع، پاکستان سفارتی حل پر قائم
دفتر خارجہ کا بیان، پاکستان مشرق وسطیٰ تنازع کے حل کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات پر قائم، اسحاق ڈار کے عالمی رابطے تیز۔
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) دفتر خارجہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع، مذاکرات اور پرامن کوششوں پر مکمل طور پر قائم ہے، اور اسی پالیسی کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
خلیجِ فارس میں کشیدگی پر تشویش
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خلیجِ فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
سفارتکاری میں خاموشی اور احتیاط کی ضرورت
ترجمان نے کہا کہ سفارتکاری کے عمل میں بعض معاملات کو صوابدید اور خاموشی کے ساتھ آگے بڑھانا ناگزیر ہوتا ہے، اور میڈیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور سرکاری اعلانات کا انتظار کرے۔
پاکستان کی مستقل خارجہ پالیسی
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل مؤقف یہی رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام تنازعات، بشمول غزہ، ایران-اسرائیل کشیدگی اور حالیہ امریکا-ایران تنازع، کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
اسحاق ڈار کے عالمی سفارتی رابطے
دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ، عراق، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کر کے کشیدگی کم کرنے اور اجتماعی سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے متحرک ہے۔
عالمی امن کیلئے پاکستان کا کردار
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے سفارتی ذرائع پر زور دینا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہے، اور اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔