پاکستان کا خلائی انقلاب: چین کے ساتھ تاریخی تعاون، سیٹلائٹ ’ایچ ایس۔1‘ کی سائنسی اُڑان سے نیا باب رقم

چین کے خلائی مرکز سے “ایچ ایس۔1” سیٹلائٹ کے کامیاب لانچ کے موقع پر پاکستانی اور چینی سائنس دانوں کی مشترکہ تقریب۔
محمد عاقب نمائدہ خصوصی

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عاقب قریشی سے) پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون نے ایک نئی تاریخی جہت اختیار کرلی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خلائی شراکت داری کے نتیجے میں نہ صرف پاکستانی خلا باز کو چین کے خلائی مشن میں پے لوڈ ماہر کے طور پر شامل کیا گیا ہے بلکہ پاکستان نے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ” ایچ ایس۔1“بھی چین کے خلائی مرکز سے کامیابی کے ساتھ مدار میں بھیج دیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے خلائی سفر میں ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہو رہی ہے جو مستقبل میں سائنسی تحقیق، ماحولیاتی نگرانی اور زرعی ترقی کے نئے راستے کھولے گی۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستانی خلا باز جلد چینی خلا بازوں کے ساتھ مشترکہ تربیت حاصل کریں گے اور چین کے خلائی اسٹیشن کے درمیانی مدتی منصوبے میں حصہ لیں گے۔ اس اقدام سے پاکستان کی سائنسی استعداد میں اضافہ ہوگا اور سپارکو کی بین الاقوامی ساکھ مزید مستحکم ہوگی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی خلا باز کسی دوسرے ملک کے سرکاری خلائی مشن میں عملی طور پر شامل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ایچ ایس۔1 کے ذریعے پاکستان روایتی مشاہداتی سیٹلائٹس سے آگے بڑھ کر کثیر طیفی (Hyper Spectral) ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل ہوگیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت زمین کی سطح، مٹی، فصلوں، پانی، جنگلات، گلیشیئر اور ماحولیاتی تغیرات کے بارے میں نہایت باریک اور درست معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ سپارکو کے مطابق اس سے زرعی پیداوار کے تخمینے میں 15 تا 20 فیصد تک بہتری متوقع ہے، جو غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

یہ سیٹلائٹ زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات سے بچاؤ اور شہری منصوبہ بندی میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گا۔ “ایچ ایس۔1” کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے ذریعے گلیشیئر کے پگھلنے، زمینی سرکاؤ، سیلابی خطرات، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور شہری پھیلاؤ کی مسلسل نگرانی ممکن ہوگی۔ اس طرح پاکستان ردِعملی پالیسی سے نکل کر پیشگی منصوبہ بندی کی راہ پر گامزن ہوسکے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی تکنیکی خود مختاری کو مضبوط بنائے گی بلکہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں کی نگرانی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “ایچ ایس۔1” سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اقتصادی ترقی، موسمیاتی پالیسی، پانی کے ذخائر کے انتظام اور شہری ترقی کے منصوبوں کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔

سیٹلائٹ مشن کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہیں جن میں اعدادوشمار کے مؤثر استعمال، ماہر افرادی قوت کی تربیت اور تحقیقی اداروں کی ہم آہنگی شامل ہیں۔ اگر پاکستان ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے عمل کرے تو “ایچ ایس۔1” صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ ایک علمی، معاشی اور تزویراتی سرمایہ کاری بن سکتا ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق پاکستانی خلا باز کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ چین اپنے دوست ممالک کو سائنسی ترقی میں برابر کا شریک دیکھنا چاہتا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے اور مستقبل میں یہ تعاون مصنوعی سیارچوں کے تبادلے، خلائی سلامتی اور تحقیق کے نئے میدان کھولے گا۔

”ایچ ایس۔1 “سے قبل پاکستان نے ”پی آر ایس ایس۔1“ (2018)، ”ای۔او۔1 “(2025) اور “کے۔ایس۔1 (2025) جیسے مشن کامیابی سے مکمل کیے تھے، لیکن ”ایچ ایس۔1“ نے پاکستان کو خلائی تحقیق کے ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ حکمتِ عملی کے لحاظ سے بھی پاکستان کو ایک خود مختار اور جدید ریاست کے طور پر نمایاں کر رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق، اگر پاکستان اس ٹیکنالوجی کو اپنی پالیسی سازی، زرعی اصلاحات، ماحولیاتی منصوبہ بندی اور تعلیم کے شعبے سے جوڑنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ ترقی صرف خلاء تک محدود نہیں رہے گی بلکہ زمین پر بھی ایک نئے عہد کی شروعات کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں