” کس نے ہٹایا اور کس کے کہنے پر ہٹایا سب جانتا ہوں“ — کامران ٹیسوری کا ردعمل
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ شہر کے مسائل پر آواز بلند کرتا رہوں گا، مجھے معلوم ہے کس نے اور کس کے کہنے پر ہٹایا۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ شہر کے مسائل پر ان کی آواز آئندہ بھی اسی طرح بلند ہوتی رہے گی اور اگر کسی نے چھیڑنے کی کوشش کی تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں کس نے ہٹایا اور کس کے کہنے پر ہٹایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص ہمیشہ کسی منصب پر نہیں رہتا لیکن وہ گونگا، بہرا یا ڈمی گورنر نہیں تھے اور نہ ہی ایسا بننا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے منصب سنبھالا تو وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے کام کریں گے اور اسی جذبے کے تحت کراچی اور سندھ کے عوام کے مسائل اجاگر کرتے رہے۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو ممکنہ طور پر گورنر سندھ بننے پر مبارکباد بھی دی اور کہا کہ انہوں نے بھی یہ خبر ٹی وی پر دیکھی ہے اور امید کرتے ہیں کہ وہ گورنر ہاؤس میں شروع کیے گئے عوامی اقدامات کو جاری رکھیں گے۔
نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ، سمری صدر کو ارسال
کامران ٹیسوری نے کہا کہ انہیں کراچی کے عوام، تاجر برادری، علما اور اقلیتی برادری کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے اور اسی وجہ سے وہ شہر کے مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر گل پلازہ کے معاملے پر آواز اٹھانے یا کراچی بچاؤ کانفرنس منعقد کرنے کی وجہ سے انہیں سزا دی گئی ہے تو وہ پھر بھی ایسے اقدامات جاری رکھیں گے کیونکہ کراچی کے عوام کے مفاد کے لیے بات کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ وہ کئی ایسے راز جانتے ہیں جن کے سامنے آنے سے کچھ لوگ پریشان ہو سکتے ہیں تاہم ملک کے مفاد اور پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے وہ سیاسی زبان بند رکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گورنر ہاؤس کی جانب سے شروع کیے گئے فلاحی اور عوامی اقدامات جاری رہنے چاہئیں تاکہ صوبے اور شہر کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اگر کل نئے گورنر آ جاتے ہیں تو وہ شرکا کی میزبانی نہیں کر پائیں گے جس پر انہوں نے معذرت بھی کی۔