ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی

آبنائے ہرمز سے گزرتا پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) پاکستان اور ایران کے درمیان بحری تعاون میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں استحکام اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار کا بیان اور سفارتی پیش رفت

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اس پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت نے پاکستانی جہازوں کے لیے یہ سہولت فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔ انہوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے یہ اقدام ایک تعمیری اور مثبت پیش رفت ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرے گا بلکہ سفارتی تعلقات میں بہتری کا باعث بھی بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بات چیت، سفارت کاری اور اعتماد سازی ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی پیچیدہ صورتحال کا دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں، اور یہی طریقہ کار مستقبل میں بھی اپنایا جانا چاہیے تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی بحری جہاز “ایم ٹی کراچی” کو ایرانی سمندری حدود سے گزرنے کی خصوصی اجازت دی گئی تھی، جو 18 مارچ کو کراچی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل موجود تھا، جو پاکستان کی توانائی ضروریات کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے گزرنے والی شپنگ سرگرمیاں عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے میں ایران کی جانب سے پاکستانی جہازوں کو اجازت دینا نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی علامت ہے بلکہ اس سے خطے میں تجارتی اور اقتصادی استحکام کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں