ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر اتفاق، اسرائیل کی جانشین کو مارنے کی دھمکی
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) تہران: ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان کے بیشتر ارکان ایک نام پر متفق ہو گئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
مجلس خبرگان کے رکن محمد میر باقر نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے زیادہ تر ارکان متفق ہو چکے ہیں، تاہم عمل مکمل کرنے کے لیے کچھ رکاوٹیں ابھی باقی ہیں جنہیں حل کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ: ایران میں ایسا سپریم لیڈر چاہیے جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مجلس خبرگان کے اکثریتی ارکان مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے پر متفق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اتفاق رائے عوامی خواہشات اور سابق سپریم لیڈر کی پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چند ارکان کی مختلف آراء بھی موجود ہیں، تاہم اختلاف رائے کو مخلصانہ قرار دیا گیا ہے اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں بتایا گیا۔
اعلان میں تاخیر کیوں؟
رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کے باضابطہ اعلان میں تاخیر سکیورٹی خدشات کے باعث ہو رہی ہے۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن آیت اللہ محسن حیدری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حتمی ووٹنگ کے لیے اسمبلی کا براہ راست اجلاس ممکن نہیں۔
اسرائیل کی سخت دھمکی
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر ممکنہ جانشین کو نشانہ بنائے گی۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ نہ صرف جانشین بلکہ اس انتخابی عمل میں شامل ہر شخص کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نے خبردار کیا کہ جانشین کے انتخاب کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔