بالی ووڈ کے معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کو نسلی تعصب کا سامنا

بالی ووڈ کے معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کو نسلی تعصب کا سامنا

ممبئی : بالی ووڈ کے معروف گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے حالیہ بین الاقوامی دورے کے دوران آسٹریلیا میں نسلی تعصب اور دقیانوسی تبصروں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ان تمام منفی رویوں کا جواب وقار، انکساری اور مثبت سوچ کے ساتھ دیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دلجیت دوسانجھ نے بتایا کہ جب وہ آسٹریلیا پہنچے تو ایئرپورٹ پر ان کی تصاویر لینے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے سامنے آئے جنہوں نے انہیں حیران کر دیا۔

گلوکار کے مطابق کچھ صارفین نے ان کی تصاویر پر نسلی بنیادوں پر تنقیدی جملے کسے، جن میں کہا گیا کہ “نیا اوبر ڈرائیور آگیا ہے” یا “7–11 اسٹور کا نیا ملازم پہنچ گیا ہے”۔ دلجیت نے کہا کہ ایسے تبصرے سن کر ابتدا میں افسوس ہوا، لیکن بعد میں انہوں نے یہ سوچا کہ وہ ان الفاظ کو مثبت انداز میں لیں گے، کیونکہ وہ ان تمام محنت کش لوگوں کی عزت کرتے ہیں جو اپنی محنت سے زندگی چلاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “مجھے ٹیکسی یا ٹرک ڈرائیور سے تشبیہ دیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ میں ان لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو روزانہ کی بنیاد پر محنت کرتے ہیں۔ اگر ٹرک ڈرائیور نہ ہوں تو لوگوں کے گھروں تک روٹی بھی نہیں پہنچ سکتی۔” دلجیت نے مزید کہا کہ “میں ان سب سے محبت کرتا ہوں، حتیٰ کہ ان سے بھی جو میرے بارے میں ایسے تبصرے کرتے ہیں۔ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے دینا چاہیے۔”

رپورٹ کے مطابق دلجیت دوسانجھ کے اس پرامن اور باوقار ردعمل نے دنیا بھر میں ان کے مداحوں کے دل جیت لیے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے رویے کو “اعلیٰ ظرفی کی مثال” قرار دیا اور کہا کہ دلجیت نے ثابت کیا کہ شہرت اور وقار کا مطلب صرف کامیابی نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی بھی ہے۔

دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ “میں سمجھتا ہوں کہ دنیا ایک ہونی چاہیے، اس میں کوئی سرحدیں نہیں ہونی چاہئیں۔ ہم سب انسان ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت، رنگ، اور عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔” ان کے اس بیان کو مداحوں نے ہزاروں بار شیئر کیا اور دنیا بھر کے فنکاروں نے بھی ان کے موقف کی تائید کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دلجیت اس وقت اپنے عالمی میوزک ٹور پر ہیں، جس کے دوران وہ امریکہ، یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں کنسرٹس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں جہاں بھی جاتا ہوں، اپنے ملک، اپنی زبان اور اپنی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بھارتی پنجابی آرٹسٹ عالمی سطح پر عزت، محبت اور وقار کے ساتھ اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔

دلجیت دوسانجھ نے حال ہی میں اپنا نیا البم “اورا” ریلیز کیا ہے، جو دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے معروف بین الاقوامی فنکار جیکسن وانگ کے ساتھ “Buck” نامی گانے پر بھی تعاون کیا ہے، جب کہ فلم “کان” کے لیے بھی ایک گانا گایا ہے۔ ان کے مداحوں کے مطابق دلجیت دوسانجھ نہ صرف اپنی موسیقی کے ذریعے بلکہ اپنے اخلاق اور شخصیت کے ذریعے بھی دنیا میں بھارت اور پنجابی ثقافت کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دلجیت کا یہ مؤقف ایک مضبوط پیغام ہے کہ عالمی سطح پر اب بھی نسلی تعصب کا سامنا کرنے والے افراد اپنے رویے، کردار اور مثبت سوچ سے دنیا کا زاویۂ نظر بدل سکتے ہیں۔ ان کا یہ عمل نہ صرف بھارتی شوبز انڈسٹری بلکہ عالمی فنون لطیفہ میں برداشت اور ہم آہنگی کی نئی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں