ریاستِ بہاولپور کے تاریخی سونے اور چاندی کے سکے
خصؤصی تحریر: ( ڈاکٹر ذوالفقارعلی رحمانی لندن)
کیا انگریزوں سے پہلے سابق ریاست بہاولپور میں سونے اور چاندی کے سکے (اشرفیاں) ڈھالے جاتے اور کیا یہ ریاست کی کرنسی تھی؟
جی سابق ریاستِ بہاولپور میں سونے اور چاندی کے سکے ڈھالے جاتے جو اس کے مضبوط کرنسی (معاشی) نظام کا ثبوت ہے ۔
بہاولپور میں سونے اور چاندی کے سکے
برطانوی اقتدار سے قبل ریاستِ بہاولپور کا اپنا سکہ رائج تھا، جس میں سونا، چاندی اور تانبے کے سکے شامل تھے۔ سونے کے سکے، جنہیں عمومی طور پر “اشرفی” یا “موہر“ کہا جاتا تھا۔ یہ زیادہ تر ریاستی خزانے، انعامات اور بڑی مالی ادائیگیوں کے لیے مخصوص تھے۔ ریاستی کرنسی میں چاندی کے روپے تھے جن کو “بہاولپوری روپیہ”اور “احمدپوری روپیہ” کہتے تھے یہ سکے روزمرہ لین دین کی بنیاد تھے، جبکہ تانبے کے سکے (نکہ پیسہ) عام عوام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ بہاولپوری روپیہ مالیت 12 آنے جبکہ احمدپوری روپیہ کی مالیت 10آنے تھی۔
سونے کے سکے نواب محمد بہاول خان سوم کے دور میں جاری کیے گئے، جو ریاست کی معاشی خودمختاری کی علامت تھے۔ سونے کے سکّے دو اوزان میں ڈھالے جاتے تھے ۔ بڑے سونے کے سکّے کی مالیت 52 روپے جبکہ چھوٹے سکّے کی مالیت 16 روپے تھی ۔
ریاستی سکوں پر کندہ عبارت ” دارالسرور بہاولپور“ نہ صرف شہر کی پہچان تھی بلکہ خوشحالی اور وقار کی نمائندگی بھی کرتی تھی۔ اسی طرح کھجور کے درخت، ستارہ اور ہلال جیسے نقوش ریاست کی ثقافتی و مذہبی شناخت کو اجاگر کرتے تھے۔
یہ سکے احمد پور، بہاولپور اور خان پور شہر کی ٹکسال (Mint) میں ڈھالے جاتے۔ ٹکسال وہ ادارہ ہوتا تھا جہاں سکے ڈھالے جائیں ۔
ان ٹکسال میں دھات (سونا، چاندی تانبہ) کو پگھلا کر مخصوص سائز اور وزن کے مطابق ڈھال کر اس پر حکومتی نشان، تاریخ، اور قدر (value) ثبت کر کے سکے تیار کیے جاتے تھے۔
دوستو! ٹکسال کا تصور بہت قدیم ہے۔ قدیم یونان اور روم میں سب سے پہلے منظم سکے بنائے گئے۔ اسلامی دور میں باقاعدہ ٹکسال قائم ہوئے۔ برصغیر میں مغل بادشاہوں نے مختلف شہروں میں ٹکسال بنائے۔ ان کے دور میں ہر بڑے شہر میں ٹکسال ہوتا تھا۔ سونے، چاندی اور تانبے کے سکے عام تھے
ان ٹکسال میں مختلف مالیت کے سکے بنانا (Coin Production)، سکوں کے ڈیزائن تیار کرنا (Designing) جن میں قومی علامات، شخصیات، یا تاریخی واقعات کو سکوں پر نقش کرنا ہوتا تھا۔ ان ٹکسال میں یادگاری سکے (commemorative coins) بھی بناتے ہیں۔ ان ٹکسال میں سکوں (کرنسی) کے علاوہ گولڈ میڈل (Gold medal)، سلور میڈل (Silver medal) اور برونز میڈل (Bronze medal) کے علاوہ دیگر سول اور ملٹری اور سول ایوارڈ بھی ڈھالے جاتے۔
قدیم ٹکسال (Mint) میں ہاتھ سے سکے ڈھالے جاتے تھے جس میں ہتھوڑے اور سانچے یا ٹھپے (ڈائی) استعمال ہوتے تھے جبکہ جدید ٹکسال خودکار مشینری، کمپیوٹرائزڈ ڈیزائن، انتہائی درستگی اور تیز رفتار سکے بنتے ہیں ۔
دوستو! آپ نے پرانے سکوں پر لفظ “ضرب” لکھا دیکھا ہوگا۔ یہ ایک نہایت اہم تاریخی historical اور معاشی monetary اصطلاح ہے۔
“ضرب” عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا لغوی معنی مارنا یا ضرب لگانا (to strike) ہوتا ہے۔ سکہ سازی کے تناظر میں “ضرب” کا مطلب جہاں یہ سکہ ڈھالا (mint) گیا۔ مثلا ضرب بہاولپور، ضرب خان پور، ضرب لاہور، ضرب دہلی وغیرہ
پرانے سکوں پر حکمران کا نام، سال و سنِ اجراء اور “ضرب” + شہر کا نام لکھا ہوتا۔ بہاولپور کے سکوں پر سال اجراء عربی سال یعنی ہجری سن لکھا جاتا تھا۔
جبکہ نئے دور کے سکوں پر حکمران یا اہم لیڈر یا شخصیت یا تاریخی مقام و پہچان کی تصویر بھی ہوتی ہے۔ مثلا پاکستانی روپے پر قائداعظم کی تصویر
انگریزوں سے معاہدے agreement کے بعد سن 1866 کے بعد چاندی کے سکے ڈھالنا بند کر دیے گئے اور رفتہ رفتہ برطانوی کرنسی رائج ہو گئی۔ تاہم، اس سے پہلے بہاولپور ایک مکمل اور فعال مالیاتی نظام رکھتا تھا جو اپنی ضروریات کے مطابق سکوں کی پیداوار کو کنٹرول کرتا تھا۔
ریاستی خزانہ (Head Treasury) کے ذریعے سکوں کی تیاری اور ان کی مقدار کا تعین مارکیٹ کی طلب کے مطابق کیا جاتا تھا۔ یہ ایک جدید معاشی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو اس دور کی کئی دیگر ریاستوں میں کم نظر آتی ہے۔
راقم الحروف کو سکے (coins)اور ٹکٹیں (stamps) جمع کرنے کا شوق بطور مشغلہ ہے۔ جس کے لئے coin albums اور stamp albums بنا کر محفوظ کی ہیں ۔ کیمبرج Cambridge سے لی گئے سکے اور ٹکٹیں بہت پرانی اور نایاب ہیں۔ پاکستان کے یادگاری سکے ان البم کی زینت ہیں۔
حکومت برطانیہ کے رائل منٹ Royal Mint سے سکے coins اور یادگاری commemorative coins خریدنے کا عمل کئی سالوں پر محیط ہے۔ یہاں سے خریدنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ coins کے ساتھ Certificate of Authenticity (COA) ساتھ بھیجتے ہیں ۔
چند یادگاری سکے محدود تعداد limited edition ہوتے ہیں جن پر مخصوص گنتی کے نمبر ہوتے ہیں ۔ کچھ خاص سکوں میں چھوٹا سا ڈائمنڈ Diamond یا دیگر قیمتی پتھر fitted ہوتے ہیں ۔ عہد قدیم میں اشرفیوں کی تھیلی کی طرح آج بھی Royal Mint London والے قیمتی سکوں کو خوبصورت مخملی تھیلی ( velvet coins pouch ) جس پر رائل منٹ کا مونوگرام ہوتا ہے آج بھی یوکے کی ٹکسال (Royal Mint) نے عہد قدیم کی شاہی اشرفیوں کی تھیلی کی روایت قائم رکھی ہوئی ہے۔
جبکہ لاہور میں رنگ محل چوک پر پرانے نقلی سکوں ( fake coins ) بنانے والے کئی ہنر مند بھی بیٹھے ہیں جو ٹھپے یا ڈائی سے اصل (original coin) کا ہو بہو replica بنانے کے ماہر ہیں ۔