افغان وزیر خارجہ نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا تجویز پیش کردی
یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے ) افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مسائل کو بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ افغانستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کے طور پر خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔افغان وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امیر خان متقی نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان وزیر خارجہ کا پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا بیان
گفتگو کے دوران افغانستان اور امریکا کے معاملات، پاک افغان تعلقات میں حالیہ پیش رفت اور خطے میں جاری کشیدگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے سفارتی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
امیر خان متقی نے اس موقع پر ایک امریکی قیدی کی رہائی میں کامیاب ثالثی پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ باقی معاملات بھی سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
پاک افغان تعلقات کے حوالے سے افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا چکے ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
امارات کا کردار اور ثالثی کی کوششیں
دوسری جانب اماراتی وزیر خارجہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، اور اس کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے، اس لیے پاک افغان تعلقات میں بہتری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔