ڈاکٹر کی ڈائری ! کاٹھا پنجابی ! پنجابی ی ی ی۔۔۔بلے بلے
تحریر۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ
گُجرنوالہ دے پلوان مارن مُکی کڈن جان
گُجرنوالہ دے پلوان ۔۔۔
چھ دن ویلے تے جمے دی چُھٹی۔۔آہا ۔۔ بلے بلے
انکی طرف اگر تعریفی نظروں سے ہی دیکھ لو تو مائینڈ کر جاتے ہیں ۔۔
کی ویناں ایں اوئے ۔۔ہیں !!
ہمارے گھر میں عجیب معاملہ ہے کہ بڑے ہمیشہ چھوٹوں کیساتھ پنجابی میں بات کرتے ہیں جبکہ چھوٹے ہمیشہ اردو میں جواب دیتے ہیں ۔۔
وجہ ۔۔۔! اوہی ۔۔بُرا لگتا ہے یار 🤷♂️
بڑوں سے اس انداز میں بات کرنا
اب اگر ابو پوچھیں ؛ آ آ وئی ی۔۔اسد بے جا ہور سُنا
پھر یہ تو نہیں کہا جا سکتا نا ؛ کی سُناواں ابا ای توانوں پتا ای اے تواڈی نوں(بہو)نے جان کھادی پئی اے۔۔اُنوں دسو ؛ مولے نو مولا نہ مارے تے مولا نیئں مردا ابا جی ی ی۔۔۔
لیکن میں کہتا ہوں ؛ ابو میں خوش ہوں ابو ۔۔
آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں ۔۔
ابو ؛ کم شم دی سنا۔۔۔کلینک
اب برا لگتا ہے بندہ یہ کہتا ! کُج نہ پُچھو ابا ای۔۔
بڑا مندہ اے دیہاڑی پوری نئی لگی۔۔دعا کرو بماریاں پھیلن
تو میں کہتا ہوں ! بس ابو لگتا ہے آجکل ہلیدی سیزن چل رہا ہے انشااللہ بہتر ہو جائے گا ۔۔
ابو آپ سنائیں کیسی طبعیت ہے،واک شاک کرتے ہیں نا آپ ڈیلی ۔۔
ابو(نان سٹاپ لیٹے رہنے کا ورلڈ ریکارڈ بناتے ہوئے)
آہو یار بس ہُن ٹھنڈ ٹُر چلی اے تے اسی وی ٹُر پواں گے۔۔
اب بندہ یہ کہتا کتنا برا لگتا ہے ؛ ابو گرمی وِچ تے تُسی اوکا ای نیئں نکلدے اوکا ای ی۔پائی جان بچاو جان
تو میں کہتا ہوں ! جی ابو اب تو موسم واقعی باہر واک والا ہو گیا ہے۔۔
ابو تو سب کے مسوم ہوتے ہیں لیکن میرے روم میٹ ڈاکٹر زاہد کے ابو(اللہ بخشے)نے تو معصومیت کے سارے ریکارڈ ہی توڑ دئیے۔۔
ہوا یوں کہ ایک دفعہ جب ہم سارے دوست میڈیکل کالج بہاولپور ہوسٹل سے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو لاہور زاہد کے گھر رات رُکے،ہمارے ساتھ ایک فارنر عرب سٹوڈنٹ ثامیر بن جابر بھی تھا بہت ڈیسنٹ پرسینیلیٹی۔۔۔
تو ہم سب گرمیوں کی رات چھت پہ لیٹے سو رہے تھے کہ زاہد کے ابو سے اچانک گیس کا اخراج شروع ہو گیا ڈز ڈز ڈز۔۔۔(آواز تو کچھ اور بنتی ہے،قاریئن کے تخیل پہ چھوڑتا ہوں)
زاہد شرمندہ شرمندہ فٹافٹ اُٹھ کر اپنے ابو کے پاس گیا ؛ابو جی کُج خیال کرو باروں مہمان آ یا جے ۔۔
انکل نے معصومیت سے جوابدیا “یار اونو کی پتا چلنا اے انہوں کہیڑا اردو آندی اے”
Uncle rocked zahid shocked 😮
بڑوں کے علاوہ میں اپنے مریضوں سے بھی اردو میں ہی بات کرتا ہوں چاہے وہ پنجابی میں بات کریں
اب ڈاکٹر یہ کہتے اچھا لگتا ہے بھلا “کی تکلیف اے”
تو میں کہتا ہوں کیا مسئلہ ہو گیا ماں جی ی ۔۔۔
وے پُتر سِر چِیلوں چِلوں کرن ڈیا اے۔۔۔
ٹیڈ وِچ اووں جیویں گولے پھردے نیں ۔۔
تے سارے پِنڈے تے جلون ہون ڈئی اے۔۔
اچھا ماں جی تو یہ بتائیں کب سے ہو رہا ہے !!!
ماں جی ؛ چَروکنوں پُتر ۔۔چَروکنوں
اچھا ۔۔۔تو موشن ٹھیک آتا ہے۔۔
ماں جی ۔۔۔کی ی ی ۔۔۔۔!!
ساتھ بیٹھے بابا جی ؛ ٹٹی دا پُچھن ڈیا ای۔۔۔
اچھا ؛ ست ست دن نیوں آوندی ۔۔جیویں مینگناں۔
دوستوں کیساتھ البتہ چونکہ تمیز سے پیش آنا شدید بدتمیزی ہے اس لئے انکی محفل میں پنجابی ہی چلتی ہے ۔۔اوریجنل پنجابی جو کہ سنسر کی پابندیوں کی وجہ سے بیان نہیں کی جاسکتی(سمجھ تے گئے ہوو گے 😉)
بوتا شیار نہ بن تے سِدی سِدی گَل کر ۔۔نیئں تے تیری میں ۔۔۔۔۔او کرنی اے کہ فیر توں ۔۔۔آآ
ویسے سچ پوچھیں تو مجھے لگتا ہے کہ پنجابی زبان جذبات کی اصل اساس کا صحیح معنوں میں حق ادا کرنے والی زبان ہے،میری اپنی پھوپھو سے بہت دوستی ہے کلینک سے واپسی پہ ضرور ان کیساتھ فون پہ گپ لگاتا ہوں وہ بھی ٹھیٹھ پنجابی بولتی ہیں،درمیان میں کبھی اردو بولیں تو بہت انجوائے کرتا ہوں ؛ بلکل بلکل اسد میں نے بھی” تَدےای” یہ بات کی ورنہ میری تو عادت ہی نہیں ۔۔۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ چند سال قبل ہم ہانگ کانگ گئے ہوئے تھے سیر سپاٹے کیلئے ہمارے ساتھ ٹورسٹ گروپ میں سندھی اور پٹھان فیملیز کے بچے بھی موجود تھے اور وہ آپس میں ہمیشہ پشتو اور سندھی میں ہی بات کرتے جبکہ ہمارے بچے جو پنجابی بولیں تو ہم شرمندہ ہوتے اور آنے پاڑ پاڑ کر دیکھتے ہوئے انہیں “پینڈو” قرار دینے لگتے،کیا یہ سچ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کی اچھی انگلش بولنے پر باقاعدہ فخر محسوس کرتے ہیں اور پنجابی پہ خفت،ابھی پچھلے دنوں میری ایک رشتہ دار خاتون اپنی بیٹی کی انگلش تعریف کرتے ہوئے کہنے لگیں ؛اسد ایدے نال انگلش چی گل کر ؛ اور میں 🙄 ؛
What is your name !
کوئی جواب نہیں ۔۔۔
کزن فوراً بولی ؛ اب اتنی مشکل انگلش بھی نہ بولیں نا چھوٹی سی تو ہے ؛ پوچھیں بیٹا آپ کا “name” کیا ہے پھر بتائے گی۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں میں اب اپنی بیٹی نور نشاں کی گُلابی اردو(نانا نانی کے زیر اثر) بہت انجوائے کرتا ہوں
ابوو(نانا) میں بالتی ہوں بتی (لائٹ آن)
بابا آپ نے مجھے کہا تھا کہ مجھے گاڑی لے کر دیں گے
تو آپ لائے کوئی نیئں ۔۔آپ نے مجھے “دا” لگایا تھا
گجرات سے میرا جٹ بیسٹ پھرینڈ پا جواد بھی اب تو جواد بھائی ہو گیا ہے،جی اسکے چھوٹے بھائی مانی اور شیری جب ہوسٹل آتے تو شرارتیں کر کے ڈرتے کہتے “پاجواد” نو نہ دسیا جے اسد بھائی ۔۔تو میں ہستا !
کاٹھا پنجابی
ہمراہ رُستم پاک و ہند عُمر بٹ پہلوان
(بیک فِلپ سلطان فیم)
۱۴ مارچ ۲۰۰۲ پنچابی کلچر ڈے